شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 86
دہشتگرد نے گولیوں کا رخ کرسیوں کی طرف کر دیا اور فائرنگ کرتا ہوا ابا جی کے نزدیک جاتا گیا۔بقول کرنل بشیر احمد باجوہ صاحب جو کرسیوں کے پیچھے تھے، ان پر بھی فائر ہوئے لیکن وہ بچ گئے۔وہ کہتے ہیں کہ اس دوران یہ زخمی ہو چکے تھے۔وہ دہشتگر دسمجھا کہ میرا کام ختم ہو گیا ہے۔فارغ ہو کر مڑا اور شاید اپنی گن لوڈ کرنے لگا۔تو کہتی ہیں کہ کرنل صاحب نے بتایا کہ اسی دوران میرے اباجی نے زخمی ہونے کے باوجود موقع غنیمت جانا اور پیچھے سے ایک دم چھلانگ لگا کر اس کی گردن پکڑ لی۔یقینا یہ ایک ایسی طاقت تھی جو ان کی مدد کر رہی تھی، کوئی پیچھے خاص طاقت۔کرنل بشیر نے جو کرسیوں کے پیچھے تھے انہوں نے بھی فوراً چھلانگ لگائی اور دہشتگرد کو قابو کرنے لگے۔وسیم صاحب کا بیان ہے کہ ہم سیڑھیوں سے چند stepہی نیچے تھے اور دیکھ رہے تھے۔جب دیکھا کہ دہشتگر دقابو میں آ رہا ہے تو دوسرے خدام بھی اس دوران میں مدد کے لئے آگئے اور اس ہاتھا پائی کے دوران ان کے بقول ،اس دوران میں ان کو گولیاں لگ چکی تھیں۔لیکن اس سے پہلے بھی لگ چکی تھیں۔اور ایک ہتھیلی سے بھی پار ہوئی ، دوسری بازو میں کلائی کے پاس لگی۔اور تیسری پسلیوں میں پیٹ کے ایک طرف۔پہلے کم زخمی تھے، اس ہاتھا پائی میں مزید گولیاں بھی لگیں۔بہر حال ان کی اس ابتدائی کوشش کے بعد کرنل بشیر اور باقی نمازی شامل ہوئے اور اس دہشتگرد کی جیکٹ کو (Defuse) کر دیا اور اس کے ہاتھ پاؤں باندھ دیئے۔دیکھنے والے بتاتے ہیں کہ عمر کے اس حصے میں بھی گولیاں لگنے کے باوجود آپ کا دماغ صحیح کام کر رہا تھا۔اور جیکٹ کو ڈ فیونر (Defuse) کرنے کے بارے میں بھی وہی ہدایت دیتے تھے۔کیونکہ ان کا یہی کام تھا، بم ڈسپوزل میں کام کرتے رہے ہیں۔اور دیکھنے والے مزید کہتے ہیں کہ اس وقت ان کی حالت دیکھ کر ہماری بری حالت ہو رہی تھی لیکن ایک دفعہ بھی انہوں نے ہائے نہیں کی اور بڑے آرام سے اپنی جان جان آفرین کے سپر د کر دی اور شہادت کا رتبہ پایا۔86