شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 21 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 21

ہاتھ نہ جانے دیا، اس بُک تک اس کا ہاتھ نہ جانے دیا جسے وہ بھینچ کر اس کو پھاڑ نا چاہتا تھا۔یہ بیچارے لوگ جو نو جوان دہشتگرد ہیں، چھوٹی عمر کے، اٹھارہ انیس سال کے، یا بہیں بائیس سال کے لڑکے تھے ، یہ بیچارے غریب تو غریبوں کے بچے ہیں۔بچپن میں غربت کی وجہ سے ظالم ٹولے کے ہاتھ آجاتے ہیں جو مذہبی تعلیم کے بہانے انہیں دہشتگر دی سکھاتے ہیں اور پھر ایسا brain wash کرتے ہیں کہ ان کو جنت کی خوشخبریاں صرف ان خود کش حملوں کی صورت میں دکھاتے ہیں۔حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث بننے والی موت ہے۔لیکن یہ بات سمجھنے سے اب یہ لوگ قاصر ہو چکے ہیں۔ان دہشتگردوں کے سرغنوں کو کبھی کسی نے سامنے آتے نہیں دیکھا، کبھی اپنے بچوں کو قربان کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔اگر قربانیاں دیتے ہیں تو غریبوں کے بچے، جن کے برین واش کئے جاتے ہیں۔بہر حال ایسے دو دہشتگرد جو پکڑے گئے ، ہمارے اپنے لڑکوں نے ہی پکڑے۔یہ فرشتوں کا اترنا اور تسکین دینا جہاں ان زخمیوں پر ہمیں نظر آتا ہے وہاں پیچھے رہنے والے بھی اللہ تعالیٰ کے اس خاص فضل کی وجہ سے تسکین پارہے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان پر رکھا ہوا ہے۔اس ایمان کی وجہ سے جو زمانے کے امام کو ماننے کی وجہ سے ہم میں پیدا ہوا یہاں بھی اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا ہے کہ جاؤ اور میرے بندوں کے دلوں کی تسکین کا باعث بنو۔ان دعا ئیں کرنے والوں کے لئے تسلی اور صبر کے سامان کرو۔اور جیسا کہ میں نے کہا، ہر گھر میں مجھے یہی نظارے نظر آئے ہیں۔ایسے ایسے عجیب نظارے ہیں کہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ کیسے کیسے لوگ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو عطا فرمائے ہوئے ہیں۔ہر ایک إِنَّمَا أَشْكُوا بَنِّى وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ (یوسف: 87) کہ میں اپنی پریشانی اور غم کی فریاد اللہ تعالیٰ کے حضور کرتا ہوں کی تصویر نظر آتا ہے۔اور یہی ایک مومن کا طرہ امتیاز ہے۔مومنوں کو غم کی حالت میں صبر کی یہ تلقین خدا تعالیٰ نے کی ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔يَا أَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ - إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ (البقرة:154) اے لوگو! جو ایمان لائے ہو۔صبر اور صلوۃ کے ساتھ اللہ سے مدد مانگو، 21