شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 22
یقینا اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔پس ایک بندہ تو خدا تعالیٰ کے آگے ہی اپنا سب کچھ پیش کرتا ہے، جو اللہ کا حقیقی بندہ ہے، عبد رحمان ہے، جزع فزع کی بجائے شور شرابے اور جلوس کی بجائے ، قانون کو ہاتھ میں لینے کی بجائے ، جب صبر اور دعاؤں میں اپنے جذبات کو ڈھالتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کی بشارتوں کا حق دار ٹھہرتا ہے۔مومنوں کی جماعت کو خدا تعالیٰ نے پہلے ہی آزمائشوں کے متعلق بتا دیا تھا۔یہ فرما دیا تھا کہ آزمائشیں آئیں گی۔فرماتا ہے۔وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّبِرِينَ۔(البقرة:156) اور ہم ضرور تمہیں کچھ خوف اور کچھ بھوک اور کچھ اموال اور جانوں اور پھلوں کے نقصان کے ذریعے سے آزمائیں گے۔اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دے۔پس صبر اور دعائیں کرنے والوں کے لئے خدا تعالیٰ نے خوشیوں کی خبریں سنائی ہیں۔اپنی رضا کی جنت کا وارث بننے کی خبریں سنائی ہیں۔اللہ کی راہ میں شہید ہونے والوں کو بھی جنت کی بشارت ہے۔اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق اس دنیا میں رہنے والوں کے لئے بھی جنت کی بشارت ہے۔ایسے لوگوں کی خواہشات اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول بن جاتی ہیں۔جو آیات میں نے تلاوت کی ہیں، ان میں اللہ تعالیٰ نے مومنین کی انہی خوبیوں کا ذکر کیا ہے کہ جولوگ ابتلاؤں میں استقامت دکھاتے ہیں فرشتے ان کے لئے تسلی کا سامان کرتے ہیں۔جب مومنین ہر طرف سے ابتلاؤں میں ڈالے جاتے ہیں جانوں کو بھی نقصان پہنچایا جاتا ہے۔اموال کو بھی نقصان پہنچایا جاتا ہے یا پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔عزتوں کو بھی نقصان پہنچایا جاتا ہے یا پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ہر طرف سے بعض دفعہ لگتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی مدد کے دروازے ہی بند ہو گئے ہیں اس وقت جب مومنین بَشِرِ الصَّابِرِينَ کو سمجھتے ہوئے استقامت دکھاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹنے والے بن جاتے ہیں اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آ جاتے ہیں۔ایک دم ایسی فتح و ظفر اور نصرت کی خبریں ملتی ہیں، اس کے دروازے کھلتے ہیں کہ جن کا خیال بھی ایک مومن کو نہیں آ سکتا۔ایسے ایسے عجائب 22