شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 11
(اے رب ہمارے! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا۔اگر تیری حفاظت ہمیں نہ بچاوے اور تیرا رحم ہماری دستگیری نہ کرے تو ہم ضرور ٹوٹے والوں میں سے ہو جاویں۔)۔(بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد 2 صفحہ 520 سورۃ الاعراف زیر آیت 13) کاش کہ یہ بات ان لوگوں کو بھی سمجھ میں آ جائے جو اپنے آپ کو امت مسلمہ کی طرف منسوب کرتے ہیں اور جس مسیح موعود کے آنے کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرمائی تھی اور جو خدا تعالیٰ کی تائیدات کے ساتھ مبعوث ہوا اس کو ماننے لگ جائیں۔بجائے اس کی مخالفت کرنے کے اور باغیانہ خیالات کے لوگوں کے پیچھے چل کر زمانے کے امام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے کے وہ اس کو ماننے کی طرف توجہ دیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بارہا فرمایا ہے کہ اگر یہ خدائی سلسلہ نہ ہوتا تو کب کا ختم ہو چکا ہوتا۔پس مسیح موعود کی مخالفت کے بجائے آدم کی دعا پر غور کریں۔آج بھی بہت ساروں نے سن لیا ہوگا ، ٹی وی پر بھی آ رہا ہے، اطلاعیں آ رہی ہیں، لاہور میں دو مساجد پر ماڈل ٹاؤن میں اور دارالذکر میں بڑا شدید حملہ ہوا ہے۔اسی طرح کنری میں بھی جلوس نکالے گئے ہیں اس طرح دنیا میں اور جگہوں پر بھی مولویوں کے پیچھے چل کر مختلف ممالک میں مخالفت ہورہی ہے۔کیا یہ مخالفتیں احمدیت کو ختم کر دیں گی؟ کیا پہلے کبھی مخالفتوں سے احمدیت ختم ہوئی تھی؟ ہرگز نہیں ہوئی اور نہ یہ کر سکتے ہیں۔ہاں ان کو ضرور اللہ تعالیٰ کی پکڑ عذاب کا مورد بنا دے گی۔ہمیں نصیحت فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” دعا ایسی شے ہے کہ جب آدم کا شیطان سے جنگ ہوا تو اس وقت سوائے دعا کے کوئی اور حربہ کام نہ آیا۔آخر شیطان پر آدم نے فتح بذریعہ دعا پائی۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 171 جدید ایڈیشن) پھر آپ فرماتے ہیں: ”ہمارا اعتقاد ہے کہ خدا نے جس طرح ابتدا میں دعا کے ذریعہ سے شیطان کو آدم کے زیر کیا تھا اسی طرح اب آخری زمانہ میں بھی دعا ہی کے ذریعہ سے غلبہ اور تسلّط عطا کرے گا، نہ تلوار۔آدم اول کو ( شیطان پر ) فتح دعا ہی سے ہوئی تھی۔سے۔11