شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 12 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 12

رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَسِرِينَ (الاعراف:24) اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ، اگر تو ہمیں نہیں بخشے گا اور ہم پر رحم نہیں کرے گا تو ہم خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوں گے۔فرمایا: ” اور آدم ثانی کو بھی (یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی جن کو اللہ تعالیٰ نے آدم ثانی فرمایا ہے ) جو آخری زمانہ میں شیطان سے آخری جنگ کرنا ہے، اسی طرح دعا ہی کے ذریعہ فتح ہوگی۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 190-191 جدید ایڈیشن) پس جب یہ دشمنیاں بڑھ رہی ہیں، بلکہ دشمنی میں بعض جگہ معمولی اضافہ نہیں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے، اور یہ اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے ہمیں دعاؤں کی طرف بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ باوجود ساری مخالفتوں کے، باوجود تمام تر روکوں کے، باوجود اس کے کہ شیطان ہر راستے پر بیٹھا ہوا ہے جماعت بھی بڑھتی چلی جارہی ہے۔سعید فطرت لوگوں کے ذریعے ملائکتہ اللہ بھی حرکت میں ہیں اور جو سعید فطرت لوگ ہیں وہ جماعت میں شامل ہوتے چلے جارہے ہیں۔سورۃ اعراف میں یہ دعا سکھائی گئی ہے رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا۔(الاعراف:24) اللہ تعالیٰ کے قریب ہونے اور زیادہ سے زیادہ برکات کو سمیٹنے اور شیطان کے ہر حملے سے بچنے کے لئے دعاؤں کی طرف اور اپنی اصلاح کی طرف ہمیں انفرادی طور پر بھی اور جماعتی طور پر بھی بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔پھر ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ حکمتِ الہیہ نے آدم کو ایسے طور سے بنایا کہ فطرت کی ابتداء سے ہی اس کی سرشت میں دو قسم کے تعلق قائم کر دیئے۔یعنی ایک تعلق تو خدا سے قائم کیا جیسا قرآن شریف میں فرمایا: فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُّوحِي فَقَعُوا لَهُ سَجِدِينَ (الحجر: 30) یعنی جب میں اس کو ٹھیک ٹھاک بنالوں اور میں اپنی روح اس میں پھونک دوں تو اے فرشتو! اس وقت تم سجدے میں گر جاؤ۔فرمایا: ” کہ مذکورہ بالا آیت سے صاف ثابت ہے کہ خدا نے آدم میں اس کی پیدائش کے ساتھ ہی اپنی روح پھونک کر اس کی فطرت کو اپنے ساتھ ایک تعلق 12