شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 176
میں نے نئی وردی پہنی ہے۔اسی وردی میں شہادت کا رتبہ پایا۔ان کی اہلیہ لکھ رہی ہیں شہادت کی خبر پہلے ٹی وی کے ذریعہ ملی کہ لاہور میں احمدی مساجد پر حملہ ہو گیا۔پھر ہم نے لا ہور وسیم صاحب کے نمبر پر رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن رابطہ نہ ہو سکا۔وسیم صاحب کے نمبر سے کسی احمدی بھائی نے فون کر کے خبر دی کہ وسیم صاحب شہید ہو گئے ہیں۔یہ خبر سن کر بہت دکھ اور تکلیف بھی ہوئی لیکن شہادت جیسا بلند مرتبہ پانے پر بہت خوشی تھی اور سرفخر سے بلند تھا کہ مسجد میں نمازیوں کی حفاظت کرتے ہوئے شہادت پائی۔شہید مرحوم پنجوقتہ نماز کے پابند تھے، نیکی کے ہر کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے۔مکرم نذیر احمد صاحب شہید اگلا ذکر ہے مکرم نذیر احمد صاحب شہید ابن مکرم محمد لیلین صاحب کا۔شہید مرحوم اپنے خاندان میں اکیلے احمدی تھے اور اکیلے احمدی ہونے کی وجہ سے پورے خاندان میں مخالفت تھی۔شہید مرحوم تجنید اور بجٹ کے لحاظ سے حلقہ کوٹ لکھ پت میں شامل تھے۔نماز جمعہ ادا کرنے کے لئے مسجد بیت النور ماڈل ٹاؤن میں آتے۔اس کے علاوہ باقی نمازیں اپنے حلقے میں واقع نماز سینٹر میں ادا کرتے۔بوقتِ شہادت ان کی عمر 72 سال تھی۔مسجد ماڈل ٹاؤن بیت النور میں جام شہادت نوش فرمایا۔ان کی نماز جنازہ اور تدفین ان کے غیر از جماعت رشتے داروں نے ہی ادا کی اور کوٹ لکھ پت قبرستان میں دفن کیا۔شہید مرحوم نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے مسجد بیت النور ماڈل ٹاؤن پہنچے ہی تھے۔اس دوران دہشتگردوں نے حملہ کر دیا۔اور اسی طرح گولیاں لگنے سے شہید ہو گئے۔ان کا جسدِ خاکی جناح ہسپتال میں رکھا گیا جہاں سے ان کے بھانجے جو غیر از جماعت ہیں نعش کو جنازہ اور تدفین کے لئے لے گئے۔مسجد دارالذکر میں ان کا نماز جنازہ غائب ادا کیا گیا۔شہید مرحوم چندہ جات کی ادائیگی میں با قاعدہ تھے اور نمازی بھی تھے۔خاندان میں شدید مخالفت کے باوجود شہادت پانے تک مضبوطی سے احمدیت پر قائم رہے۔ان کے بارہ میں صدر صاحب نے مزید لکھا ہے کہ 176