شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 167 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 167

دیا۔بعد ازاں پولیس سے بہت اچھے تعلقات بن گئے۔اس کے تھوڑے ہی عرصے بعد شیخ سعید کو اسی الزام میں حکومت نے سعودی عرب سے ڈی پورٹ کر دیا۔اور یہ خبر اخبارات میں بھی شائع ہوئی۔ان کی اہلیہ کہتی ہیں تنزانیہ میں ہی ایک دفعہ جماعتی دورے پر جانے لگے تو مجھے ملیریا بخار تھا۔تو میں نے کہا کہ میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے اور آپ جا رہے ہیں؟ مربی صاحب کہتے ہیں کہ میں اللہ کا کام کرنے جا رہا ہوں اور تمہیں بھی اللہ کے حوالے کر کے جا رہا ہوں۔شہید کی اہلیہ بتاتی ہیں کہ ماڈل ٹاؤن لاہور میں تقرری کے کچھ عرصے بعد سے دھمکی آمیز ٹیلیفون کالز کا سلسلہ شروع ہو گیا۔جب پہلی کال آئی تو مربی صاحب ایک شادی کے فنکشن میں گئے ہوئے تھے۔معلوم ہوا کہ کچھ لوگ آپ کا پیچھا کر رہے ہیں۔تو خدام الاحمدیہ کے کچھ ممبران نے بحفاظت مربی صاحب کو گھر پہنچا دیا۔گھر واپس پہنچنے پر مجھے کہتے ہیں کہ دیکھو کیسی عظیم الشان جماعت ہے کہ ان خدام سے ہمارا کوئی دنیاوی رشتہ نہیں ہے لیکن ہر وقت یہ ہماری حفاظت کے لئے تیار رہتے ہیں۔مربی صاحب کہتے ہیں کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی ہے کہ اگر تو نے میری قربانی لینی ہے تو میں حاضر ہوں لیکن میری اولاد کو ہمیشہ خلافت سے وابستہ رکھنا۔ان حالات میں جب ان کو بہنوں کے فون آتے اور وہ اس خواہش کا اظہار کرتیں کہ چھٹی لے کر ربوہ آجائیں تو آپ کہتے کہ جب باقی احمدی قربانی دے رہے ہیں تو ہم قربانیاں کیوں نہ دیں اور میدان چھوڑ کر کیوں بھا گیں۔ان حالات سے بعض دفعہ پریشان ہو کر میں جب رو پڑتی۔تو مجھے کہتے کہ شہداء کی فیملی کو اللہ تعالیٰ ضائع نہیں کرتا اور ان کی خود حفاظت فرماتا ہے۔شہید مرحوم و دعوت الی اللہ کا بہت شوق تھا۔شہادت سے ایک ماہ قبل ایک ڈاکٹر صاحب غیر از جماعت جو چاہتے تھے کہ ان کو مطمئن کیا جائے۔ان کی کافی مربیان سے بحث ہوئی لیکن ان کی تسلی نہیں ہو رہی تھی ، تو مربی صاحب نے ( شاد صاحب نے ) دوتین مجلسوں کے دوران کئی کئی گھنٹے ان کو تبلیغ کی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات اور کلام بڑے آبدیدہ ہو کر بڑی جذباتی کیفیت میں ان کو سناتے تھے۔یہی ڈاکٹر صاحب جن کو تبلیغ 167