شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 149 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 149

اصلاح دیکھتے تو اس کی اطلاع بھی مرکز کو کرتے۔جب تک یہ امیر ضلع رہے جماعت کے لئے ایک پُر شفقت باپ کا کردار ادا کیا۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔مکرم ظفر اقبال صاحب شہید اگلا ذکر ہے مکرم ظفر اقبال صاحب شہید ابن مکرم محمد صادق صاحب کا۔شہید مرحوم عارف والا ضلع لیہ کے رہنے والے تھے۔ابتدائی تعلیم عارف والا میں حاصل کرنے کے بعد لاہور شفٹ ہو گئے۔بی اے تک تعلیم لاہور میں حاصل کی۔اس کے بعد سعودی عرب چلے گئے۔جہاں قیام کے دوران پانچ بار حج کرنے کی سعادت ملی۔پاکستان واپس آنے پر ٹرانسپورٹ لائن اختیار کی اور شہادت تک اسی سے وابستہ رہے۔ایک سال قبل مع فیملی بیعت کر کے جماعت میں شمولیت اختیار کی۔بوقتِ شہادت ان کی عمر 59 برس تھی۔دارالذکر میں جام شہادت نوش فرمایا۔شہید مرحوم با قاعدگی سے تہجد کی ادائیگی کے لئے اٹھتے اور نماز فجر ادا کرنے کے بعد کام کے سلسلے میں سات بجے گھر سے نکلتے۔28 مئی سانحہ کے دن نماز تہجد ادا کرنے کے بعد تلاوت کی اور نماز فجر ادا کرنے کے بعد ناشتہ کر کے کام کے لئے گھر سے نکلے۔کام سے فارغ ہو کر مسجد دارالذکر پہنچے۔سانحہ کے دوران مسلسل بیٹے سے فون پر بات ہوتی رہی۔کہا کہ ہم چھپے ہوئے ہیں۔لیکن کہاں چھپے ہوئے تھے یہ نہیں بتایا اور بتایا کہ فائرنگ بہت ہو رہی ہے، آپ دعا کریں۔اللہ خود ہی ہماری مدد کرے گا۔پھر بیٹی سے بھی بات کی تو یہی کہا کہ دعا کریں۔پھر بار بار فون کرنے سے منع کر دیا۔دہشتگردوں کی فائرنگ کے دوران ایک گولی آپ کے کندھے پر لگی۔مین گیٹ کے قریب ان کی لاش پڑی ہوئی تھی جس سے یہ اندازہ لگایا گیا کہ جب وہ آپریشن مکمل ہونے کی غلط خبر پھیلی تو یہ با ہر نکل کر آئے ہیں اور مینار پر موجود دہشتگر دنے ان پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں گولی ان کے کندھے میں لگی جو ترچھی ہو کر دل کی طرف چلی گئی۔اس کے بعد جب ان کو اٹھا کر ایمبولینس میں ڈالا گیا تب تک ان کی نبض چل رہی تھی۔طبی امداد دینے کی کوشش کی گئی لیکن 149