شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 143
تعلیم الاسلام ہائی سکول کے ہیڈ ماسٹر بھی رہے ہیں۔اسی طرح مولانا رحمت علی صاحب مبلغ انڈونیشیا اور چوہدری احمد جان صاحب سابق امیر ضلع راولپنڈی ان کے والد کے خالو تھے۔حضرت منشی عبد العزیز صاحب او جلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے والد کے نانا تھے۔شہید مرحوم جولائی 1979ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ایم ایس سی آنرز مائیکر و بیالوجی کرنے کے بعد سترہ گریڈ کے ویٹرنری آفیسر تعینات ہوئے۔بوقتِ شہادت ان کی عمر اکتیس برس تھی۔نظام وصیت میں شامل تھے۔مسجد دارالذکر میں شدید زخمی ہوئے۔ہسپتال میں زیرِ علاج رہے اور بعد میں شہید ہوئے۔سانحہ کے روز ملازمت سے ہی نماز جمعہ ادا کرنے دارالذکر پہنچے۔ابھی وضو کر رہے تھے کہ فائرنگ شروع ہوگئی۔لفٹ کے پاس کھڑے تھے کہ دہشتگرد کی دو تین گولیاں ان کے گردوں کو چھلنی کرتی ہو ئیں نکل گئیں۔شدید زخمی حالت میں ہسپتال لے جایا گیا۔جہاں ان کے چار آپریشنز ہوئے۔ایک گردہ بالکل ختم ہو چکا تھا اسے نکال دیا گیا۔علاج کی پوری کوشش کی گئی۔ستر بوتلیں خون کی دی گئیں لیکن جانبر نہ ہو سکے اور مؤرخہ 4 جون کو جام شہادت نوش فرمایا۔اہلِ خانہ نے بتایا کہ شہید مرحوم بہت کم گو اور ملنسار انسان تھے۔کبھی کسی نے بھی ان کے بارے میں شکایت نہیں کی۔نماز کے پابند تھے۔ہر جمعرات کو اپنے مسجد کے حلقہ کے وقار عمل میں حصہ لیا کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔مکرم ڈاکٹر عمراحم صاحب شہید کے بارہ میںان کی اہلیہ نے حضرت خلیفہ لمسیح الخامس ایدہ اللہتعالیٰ کی خدمت میں کچھ کو انف لکھ کر بھجوائے۔چنانچہ حضور انور ایدہ اللہ نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ 9 جولائی و میں دوبارہ شہید مرحوم کا ذکر فرمایا جو درج ذیل ہے (ناشر)} ایک شہید کا ذکر جو پہلے ہو چکا ہے وہ بہت ہی مختصر تھا ان کی اہلیہ نے بعد میں کچھ کوائف بھیجے ہیں، اس لئے ان کا مختصر ذکر میں دوبارہ کر دیتا ہوں۔ڈاکٹر عمر احمد صاحب شہید ہیں ان کی اہلیہ نے لکھا کہ میرا اور ان کا ساتھ تو صرف ڈیڑھ سال کا ہے، لیکن اس عرصے میں مجھے نہایت ہی پیار کرنے والے شفیق، کم گو اور سادہ 143