شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 125
شہید مرحوم کے بیٹے مکرم نورالامین واصف صاحب بتاتے ہیں کہ جب والد صاحب شہید کے نکاح کا مرحلہ پیش ہوا تو بعض لوگوں نے ان کا تعلق غیر مبائعین سے قائم کرنے کی کوشش کی کہ یہ غیر مبائعین ہیں یعنی خلافت کی بیعت نہیں کی۔جس پر معاملہ حضرت خلیفۃ اسیح الثالث رحمہ اللہ کے پاس پہنچا تو حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے بڑی شفقت سے فرمایا کہ ان کو تجدید بیعت کی کیا ضرورت ہے یہ تو اس شخص کے پوتے ہیں جس نے سب سے پہلے بیعت کی تھی اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بہت ہی پیارا تھا۔اس پر حضرت مولانا ابوالعطاء جالندھری صاحب نے ان کا نکاح پڑھایا۔آپ کے ایک عزیز نے آپ کی خوبیوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ شہید مرحوم میں حسنِ سلوک، غریبوں کی مدد کرنا ، مہمان نوازی ، بیماروں کی تیمارداری کرنے کی خوبیاں نمایاں تھیں۔شہید مرحوم کو سندھ قیام کے دوران متعدد ضرورتمند بچیوں کی شادی کروانے اور ضرورتمند بچوں کے تعلیمی اخراجات برداشت کرنے کی بھی توفیق ملی۔مہمان نوازی کی صفت تو آپ میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔اگر کوئی مہمان آ جاتا اپنے گھر سے بغیر کھانا کھلائے اس کو جانے نہیں دیتے تھے۔با قاعدہ تہجد گزار تھے۔مکرم ڈاکٹر طارق بشیر صاحب شہید اگلا ذکر ہے مکرم ڈاکٹر طارق بشیر صاحب شہید ابن مکرم چوہدری یوسف خان صاحب کا۔شہید مرحوم کے والد شکر گڑھ کے رہنے والے تھے اور والد صاحب نے بیعت کر کے جماعت میں شمولیت اختیار کی تھی۔اور حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کے ارشاد پر زمینوں کی نگرانی کے لئے سندھ چلے گئے۔کراچی قیام کیا۔شہید مرحوم کی پیدائش کراچی میں ہوئی۔تاہم بعد میں یہ خاندان شکر گڑھ آ گیا۔ابتدائی تعلیم کے بعد شہید مرحوم لا ہور آگئے جہاں سے MBBS کے علاوہ میڈیکل کی دیگر تعلیم حاصل کی۔15 سال قصور گورنمنٹ ہسپتال میں کام کیا۔شہادت کے وقت میوہسپتال لاہور میں بطور A۔M۔S کام کر رہے تھے نیز قصور 125