شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 122
ہوئے ہیں آج کل پولینڈ میں ہیں، ان کے بھانجے ہیں۔بوقتِ شہادت ان کی عمر 66 سال تھی۔مسجد دارالذکر گڑھی شاہو میں جام شہادت نوش فرمایا۔مسجد دارالذکر کے مین ہال میں کرسیوں پر بیٹھے تھے۔بڑھاپے کے باعث سانحے کے دوران سب سے آخر میں اٹھے۔لیکن اس دوران دہشتگرد کی گولیاں سر اور پسلیوں میں لگنے سے شہید ہو گئے۔اہلِ خانہ نے بتایا کہ شہید مرحوم دو تین ماہ سے کہہ رہے تھے کہ میر اوقت قریب آ گیا ہے۔کچھ عرصے سے بالکل خاموش رہتے تھے۔ان کی بہو نے خواب میں دیکھا کہ ربوہ میں انصار اللہ کا ہال ہے ( جو پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا ) تو وہاں سے مجھے تین تحفے ملے ہیں اور وہ لے کر میں لاہور روانہ ہورہی ہوں۔شہداء کے سب کے جنازے بھی انصار اللہ کے ہال ہی میں ہوئے تھے۔شہید مرحوم کو تبلیغ کا بہت شوق تھا۔قریبی دیہاتی علاقوں میں جا کر مختلف لوگوں سے گھروں میں رابطہ کر کے تبلیغ کیا کرتے تھے۔خاص طور پر الفضل جیب میں ڈال کر لے جاتے۔سگریٹ نوشی کے خلاف بڑا جہاد کیا کرتے تھے اور چلتے چلتے لوگوں کو منع کر دیتے اور کوئی دوسری چیز کھانے کی دے کر کہتے کہ یہ کھالو اور سگریٹ چھوڑ دو۔تہجد گزار تھے۔نیک عادات کی بنا پر ان کا رشتہ ہوا تھا یعنی عبادت اور تبلیغ کی وجہ سے۔بہت دعا گو اور تہجد گزار تھے۔خاص طور پر بہت سارے لوگوں کے نام لے کر دعا کیا کرتے تھے۔چندوں میں با قاعدہ تھے تنخواہ ملنے پر پہلے سیکرٹری صاحب مال کے گھر جاتے اور چندہ ادا کرتے۔یہ ہے صحیح طریق چندے کی ادائیگی کا، نہ کہ یہ کہ جب بقایا دار ہوتے ہیں اور پوچھو کہ بقایا دار کیوں ہو گئے تو الٹا یہ شکوہ ہوتا ہے کہ سیکرٹری مال نے ہمیں توجہ نہیں دلائی نہیں تو ہم بقایا دار نہ ہوتے۔یہ تو خود ہر ایک کا اپنا فرض ہے کہ چندہ ادا کرے۔خلافت جوبلی کے سال میں مقالہ تحریر کیا جس میں A گریڈ حاصل کیا۔122