شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 97 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 97

نماز سے لیٹ واپسی ہوتی ، تو بڑی ڈانٹ پڑا کرتی تھی۔سخاوت ان کی زندگی کا ایک بڑا خلق تھا۔لوگوں کو بڑی بڑی چیزیں مفت بھی دے دیا کرتے تھے۔مربیان سلسلہ سے بہت لگاؤ ہوتا بہت عزت کرتے تھے ان کی ، مہمان نوازی کرتے تھے۔جہاں بھی گھر لیا حلقے کا مرکز اور سینٹر اپنے گھر کو ہی بنانے کی کوشش کرتے تھے۔بہت ملنسار تھے۔مکرم انیس احمد صاحب شہید مکرم انیس احمد صاحب شہید ولد مکرم صو بیدار منیر احمد صاحب۔شہید مرحوم کا خاندان ضلع فیصل آباد سے تھا جہاں سے بعد میں لاہور شفٹ ہو گئے۔میٹرک کی تعلیم کے بعد کمپیوٹر ہارڈ ویئر کا کام کرتے تھے۔گلبرگ میں ان کا آفس تھا۔شہادت کے وقت ان کی عمر 35 سال تھی۔نظام وصیت میں شامل تھے۔مسجد دارالذکر میں ان کی شہادت ہوئی۔نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے عموماً ماڈل ٹاؤن جایا کرتے تھے۔سانحہ کے روز کسی کام سے نکلے اور نماز جمعہ کے لئے مسجد دارالذکر چلے گئے۔اپنے والد صاحب کے ساتھ محراب کے قریب ہی بیٹھے تھے۔فائرنگ شروع ہو گئی تو والد صاحب نے چھپنے کے لئے کہا تو جوابا کہا کہ آپ چھپ جائیں میں ادھر لوگوں کی مدد کرتا ہوں اور اس دوران دہشتگر د کی گولیوں سے شہید ہو گئے۔بیوی بچوں سے بہت پیار کرتے تھے۔اسی طرح والد صاحب کی بہت اطاعت کرتے تھے۔سسرالی رشتے داروں سے بھی بھائیوں جیسا تعلق تھا۔خدمت خلق کا بہت شوق تھا۔ایک جگہ کسی احمدی دوست کا ایکسیڈنٹ ہو گیا تو اس وقت فوری طور پر خون نہیں مل رہا تھا اپنا خون بھی دیا اور پھر اس نے علاج کے لئے پیسے مانگے قرض کے طور پر پانچ ہزار یا کتنے؟ تو وہ دے دیے اور قرض واپس بھی نہیں لیا۔اپنے بیٹے کو باقاعدگی سے قرآن کلاس کے لئے بھجواتے تھے۔اور جماعتی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔اس سانحے میں ان کے چھوٹے بھائی مکرم منور احمد صاحب بھی شہید ہو گئے ہیں۔97