شری کرشن جی اور کلکی اوتار — Page 16
میں ہوئی تھی۔انہوں نے تاریخ ہمدان میں ایک حدیث ان الفاظ میں لکھی ہے : كان في الهندِ نَبِيًّا أَسْوَدُ اللَّوْنَ اللهُ كَاهِنَا ( تاریخ همدان دیلمی ردیف کاف) یعنی ہندوستان میں ایک نبی ہوا ہے جو سانولے رنگ کا تھا اور اس کا نام کا ہن تھا۔کا ہن سے مراد کرشن کنہیا ہے۔اور ہم میں سے ہر شخص کرشن کے سانولے رنگ سے واقف ہے۔اگر چہ اوپر لکھے اس فقرے کو محدثین کے معیار کے مطابق حدیث کہنا دشوار ہے لیکن اس کی تصدیق قرآن کریم کی آیات وَلِكُلِ قَوْمٍ هَادٍ وَلِكُلِّ أُمَّةٍ رَسُولِ سے ہوتی ہے۔اور یہ حدیث قبولیت کے معیار پر پوری اترتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہندوستان میں ظاہر ہونے والے دسویں صدی کے ایک بزرگ جو اس صدی کے مجد دبھی مانے جاتے ہیں حضرت سید احمد صاحب سرہندی انہوں نے بھی ہندوستان میں انبیاء کی آمد کو تسلیم کیا ہے جس سے قرآن کریم اور اس حدیث کی جو میں نے اُو پر لکھی ہے تائید ہوتی ہے۔آپ لکھتے ہیں : وو و در بعضی از بلاد ہند محسوس می گردد که انوار انبیاء علیہم الصلوة والتسلیمات در ظلمات شرک درنگ مشعلها افروخته اند 66 (مکتوبات امام ربانی جلد اول مطبوعہ مطبع احمدی دہلی ، صفحه ۲۸۴ ، ومکتوب ۲۵۹) یعنی یہ محسوس ہوتا ہے کہ ہندوستان کے بعض مقامات میں انبیاء علیہم الصلوۃ نے ظلمت و شرک کے بت کدوں میں مشعلیں روشن کی تھیں۔حضرت مظہر جانِ جاناں شہید رحمتہ اللہ علیہ گیارہویں و بارہویں صدی کے ایک بزرگ ہیں۔ان کے حالات زندگی حضرت شاہ غلام علی صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے مرتب کئے ہیں جو ملفوظات کی صورت میں ہیں۔ان کے مکتوب نمبر چودہ میں در بیان آئین کفار ہند“ کے عنوان