شری کرشن جی اور کلکی اوتار

by Other Authors

Page 14 of 60

شری کرشن جی اور کلکی اوتار — Page 14

شری کرشن مسلمانوں کی نظر میں قرآن کریم کے بیان کردہ اصول کے مطابق کہ ہر قوم اور اُمت میں خدا کی طرف سے نبی آئے ہیں۔ہندوستان کی تاریخ میں جن انبیاء کا ذکر ملتا ہے اُن میں شری کرشن جی کو ایک خاص مقام حاصل ہے اور آپ کا نبی ہونا گذشتہ زمانوں سے ثابت ہے۔موجودہ زمانہ میں حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی علیہ الصلوۃ والسلام نے جب دنیا کے سامنے شری کرشن جی کے عالی مقام کو بیان کیا تو آپ کی شدید مخالفت ہوئی اور کئی علماء نے صرف اس وو اعلان پر ہی آپ پر کفر کے فتوے دے دیئے۔وہ اعلان یہ تھا ، آپ فرماتے ہیں : راجہ کرشن جیسا کہ میرے پر ظاہر کیا گیا ہے درحقیقت ایک ایسا کامل انسان تھا جس کی نظیر ہندوؤں کے کسی رشی اور اوتار میں نہیں پائی جاتی اور اپنے وقت کا اوتار یعنی نبی تھا۔جس پر خدا کی طرف سے رُوح القدس اُترتا تھا۔وہ خدا کی طرف سے فتح مند اور با اقبال تھا۔جس نے آریہ ورت کی زمین کو پاپ سے صاف کیا۔وہ اپنے زمانہ کا در حقیقت نبی تھا جس کی تعلیم کو پیچھے سے بہت باتوں میں بگاڑ دیا گیا۔وہ خدا کی محبت سے پر تھا اور نیکی سے دوستی اور شر سے دشمنی رکھتا تھا۔“ لیکچر سیالکوٹ ، رُوحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۲۲۹،۲۲۸) حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی علیہ السلام کے اس دعوی کی گذشتہ زمانوں میں بھی تصدیق ملتی ہے اور آج کے دور کے بھی بہت سے علماء نے تائید کی ہے۔وہ لوگ جو شری کرشن جی کو اپنے زمانے کا نبی تسلیم نہیں کرتے ان کو سلف وخلف علماء اور محدثین کی بیان کردہ باتوں پر