شری کرشن جی اور کلکی اوتار — Page 13
رام چندر جی کی مورتیاں بنا کر ان کے پوجنے کا سوال ہے تو اس کی تعلیم ویدوں یا پھر بھگوت گیتا میں کہیں نہیں پائی جاتی اس لحاظ سے ان انبیاء کی مورتیاں بنا کر ان کی عبادت کرنا یہ خود ہندو مذہب کی بنیادی تعلیمات کے خلاف ہے۔سوامی دیانند جی نے خود بھی مورتی پوجا کے تعلق سے لکھا ہے کہ : وو دیکھو بت پرستی کے سبب شری رام چندر ، شری کرشن، نارائن اور شو وغیرہ کی بڑی مذمت اور جنسی ہوتی ہے۔سب لوگ چاہتے ہیں کہ وے بڑے مہاراجہ ادھیر اج اور ان کی عورتیں سیتا ، رکمنی ھشمی ، اور پارہیتی وغیرہ مہارا نیاں تھیں۔لیکن جب ان کے بت مندر وغیرہ میں رکھ کر پجاری۔۔۔۔۔لوگ ان کے نام سے بھیک مانگتے ہیں یعنی ان کو بھکاری بناتے ہیں۔۔۔یہ ان کی ہنسی اور مذمت نہیں تو اور کیا ہے؟ اس سے اپنے معزز بزرگوں کی سخت مذمت ہوتی ہے۔بھلا جس زمانہ میں یہ موجود تھے اس وقت سیتا ، رکمنی قشمی اور پاریتی کو سڑک پر یا کسی مکان میں کھڑا کر پوجاری کہتے کہ آؤ ان کے درشن کرو اور کچھ بھینٹ پو جادھر و تو سیتا رام وغیرہ ان بے عقلوں کے کہنے سے ایسا کام کبھی نہ کرتے اور نہ کرنے دیتے۔جو کوئی ایسا محول ان کا اڑاتا، کیا ان کو بدوں سزا د یئے کبھی چھوڑتے ؟ “ (ستیارتھ پرکاش، باب گیارہواں ، صفحہ ۴۵۵،۴۵۴) الغرض آج شری کرشن جی یا رام چندر جی کی مورتیاں بنا کر جو پوجا کی جاتی ہے وہ اصل میں اپنے مذہب کی تعلیمات سے لاعلمی کی ہی دلیل ہے۔ورنہ مورتی پوجا کا ہندو مذہب کی بنیادی تعلیمات میں کوئی ثبوت نہیں پایا جاتا بلکہ اس کی مخالفت پائی جاتی ہے۔