شری کرشن جی اور کلکی اوتار — Page 12
عام مسلمان شری کرشن کو نبی تسلیم کیوں نہیں کرتے عام مسلمان شری کرشن جی کو نبی کی حیثیت سے ماننے کے لئے اس لئے تیار نہیں ہوتے کہ وہاں ظاہر میں پائی جانے والی تعلیم میں توحید کا نام ونشان موجود نہیں ہے۔اور خود ہندوؤں میں ہی آریہ سماج والے، دیگر فرقوں مثلاً سناتن دھرم کے بالکل مخالفانہ عقیدہ رکھتے ہیں۔اگر آریہ سماج والے شری کرشن جی کی مذہبی حیثیت و عظمت کو قطعا تسلیم نہیں کرتے تو دوسری طرف سناتن دھرم والے ان کو انسانیت سے مافوق البشر وجود قرار دے کر فی نفسہ خالق تسلیم کرتے ہیں اور ان کو ہادی کے درجہ سے بڑھا کر قابل پرستش قرار دیتے ہیں اور آج کے زمانہ میں ان کی پرستش اس قدر عام ہوگئی ہے کہ عام آدمی کے لئے انہیں نبی کا درجہ دینا ہی مشکل ہو گیا ہے۔کسی بھی مذہب کے نبی کو جاننے کے لئے اس کی بنیادی تعلیمات پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔اس پہلو سے جب ہم شری کرشن جی کی تعلیمات کا مطالعہ کرتے ہیں تو وہاں تو حید کی تعلیم پائی جاتی ہے۔جیسا کہ ایک جگہ لکھا ہے : وو ایشور ہی دنیا میں موجود ہے اور ہر انسان میں اس کا نور جلوہ گر ہے اور سارے سنسار کو اپنی قدرت سے چلا رہا ہے۔اے ارجن تو پورے طور پر اسی خدا کے چرنوں میں چلا جا جہاں تجھے دائمی اطمینان حاصل ہوگا۔“ بھگوت گیتا ، ادھیائے ۱۸ ،شلوک ۶۱، ۶۲) شری کرشن جی کے موحد ہونے کے ثبوت میں اور بھی اقتباس پیش کئے جاسکتے ہیں لیکن میں صرف ایک ہی اقتباس پر اکتفا کرتا ہوں۔جہاں تک موجودہ زمانے میں شری کرشن جی اور