شری کرشن جی اور کلکی اوتار — Page 9
اسی لئے شری کرشن جی نے کہا کہ جب بھی مذہب کو طاقت بخشنی ہوگی تو میں ہی کسی نہ کسی وجود میں ظاہر ہوں گا اور ہوتا آیا ہوں۔اس بات سے بھی اختلاف نہیں کیا جاسکتا کہ خدا تعالیٰ ایک نبی کو دوسرے نبی کا نام دیتا ہے اگر چہ ظاہر میں وہ نہیں ہوتالیکن صفات کے لحاظ سے اس کو اسی نام سے پکارا جاتا ہے جیسے کہ مسیح علیہ السلام سے ان کی آمد پر یہود نے یہ سوال کیا تھا کہ تیرے سے پہلے تو ایلیا نے آسمان سے آنا تھا تو مسیح علیہ السلام نے ان کو جواب دیا کہ یہ یوحنا ایلیا ہی تو ہے جو میرے سے پہلے آیا ہے اس طرح حضرت یحیی علیہ السلام کو ایلیا کا نام دیا گیا۔خدا تعالیٰ نے ہر قوم اور ہر علاقہ اور ہر زمانہ میں اپنے نبی مبعوث کئے ہیں اور اس کی تصدیق خود قرآن کریم بھی کرتا ہے۔خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے : وَإِنْ مِّنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ (سورة فاطر ۳/۲۵) یعنی ” اور کوئی قوم ایسی نہیں (جس میں خدا کی طرف سے ) کوئی ہوشیار کرنے والا نہ آیا ہو۔اسی طرح ایک اور جگہ فرماتا ہے : وَلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ (الرعد: ۱/۸) یعنی اور ہر ایک قوم کے لئے (خدا کی طرف سے ) ایک رہنما ( بھیجا جا چکا ہے۔اسی طرح سورۃ النحل میں آتا ہے : وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا (النحل : ۵/۳۷) اور ہم نے یقینا ہر قوم میں کوئی نہ کوئی رسول بھیجا ہے۔قرآن کریم کی ان آیات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ہر زمانہ میں ہر قوم میں کوئی نہ کوئی رسول ضرور مبعوث کیا ہے۔پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تمام قوموں کی طرف