شری کرشن جی اور کلکی اوتار — Page 10
آنے والے رسولوں کا ذکر کیوں نہیں ملتا۔اس بات کو بھی خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں ہی حل فرما دیا ہے۔خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے : وَرُسُلًا قَدْ قَصَصْنَهُمْ عَلَيْكَ مِنْ قَبْلُ وَرُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَيْكَ (النِّساء ۲۳/۱٦٥) یعنی اور کئی ایسے رسول ہیں جن کی خبر ہم (اس سے) پہلے تجھے دے چکے ہیں اور کئی ایسے ہیں جن کا ذکر ہم نے تجھ سے نہیں کیا ہے۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا کہ دنیا میں ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی (مشکوۃ المصابہ صفحہ ۵۱۱ مطبع کانپور جلد دوم ) گزرے۔قرآن کریم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کی روشنی میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی ہر قوم اور ہر امت میں نبی آیا ہے یہ الگ بات ہے کہ ان کا ذکر قرآن کریم میں نہیں کیا گیا۔ہندوستان میں ہزاروں سال سے انسان موجود ہیں اور یہاں کئی قومیں گزرچکی ہیں۔لازمی بات ہے کہ ہندوستان میں بھی وقتاً فوقتاً کئی نبی آئے ہوں گے تاہم بعض نام جو میں نے شروع میں بیان کئے ہیں وہ ہندوستان میں اوتار یعنی نبی کی حیثیت سے یاد کئے جاتے ہیں۔جن کو ہمیں لَمْ نَقصص کے تحت رکھنا ہوگا۔اس بات کو بیان کرتے ہوئے حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی بانی مدرسہ دیو بند لکھتے ہیں : " کیا عجب ہے کہ جس کو ہندو صاحب اوتار کہتے ہیں اپنے زمانہ کے نبی یا ولی یعنی نائب نبی ہوں۔قرآن شریف میں بھی ارشاد ہے من قَصَصْنَا الخ۔۔۔۔۔سوکیا عجب ہے کہ انبیا ء ہندوستان بھی انہی نبیوں میں سے ہوں جن کا تذکرہ آپ سے نہیں کیا گیا۔“ ( مباحثہ شاہجہانپور مطبوعہ سہارنپور مابین مولانا محمد قاسم صاحب ود یا نند سرسوتی ) ا۔