شری کرشن جی اور کلکی اوتار — Page 8
شری کرشن جی مہاراج کی ہستی ایسی ہے جس کی عظمت اور بزرگی عام طور پر تسلیم کی گئی ہے اور ہندوؤں کے نزدیک ان کا ایک عالی مقام ہے۔اسی لئے ہندوؤں میں شری کرشن جی کی آمد ثانی کو بھی بڑی چاہت سے بیان کیا جاتا اور اس کی جلد آمد کی خواہش کی جاتی ہے اور اس پر عظمت ہستی کی بنیاد اس مقولہ پر ہے جس کو فیضی نے یوں بیان کیا ہے۔چو بنیاد دین ست گردو بسے نما نیم خود را بشکل کسے یعنی جب کبھی دین میں ضعف و زوال نمودار ہوتا ہے تو میں اپنے آپ کو کسی وجود کی شکل میں ظاہر کرتا ہوں۔اس کے متعلق بھگوت گیتا میں خود شری کرشن جی مہاراج نے فرمایا ہے کہ : यदा यदा हि धर्मस्य ग्लानिर्भवति भारत। अभ्युत्थानम धर्मस्य तदात्मानं सृजाम्यहम्।। पवित्राणाय साधूनाम विनाशांय च दुष्कृताम्। धर्मसंस्थापर्नाथयि सम्भवामि युगे युगे ।। (श्री मद भगवत गीता अध्याय ४ श्लोक ७–८) یعنی ” جب بھی دھرم کا ناش اور ادھرم کی زیادتی ہونے لگتی ہے تو میں نیکوں کی حفاظت اور گناہ گاروں کی سرکوبی اور دھرم کو قائم کرنے کے لئے یگ یگ میں پرکٹ ہوتا ہوں۔“ اس شلوک کا ترجمہ تمام مترجمین اور مفسرین نے ایسا ہی کیا ہے۔اس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مختلف زمانوں میں اصلاح الناس کے لئے جولوگ آتے ہیں وہ کرشن رُوپ ہوتے ہیں۔جس سے مُراد یہ ہے کہ تمام انبیاء کا ایک ہی کام ہونے کے لحاظ سے باوجود اس کے کہ وہ الگ الگ ہوتے ہیں ایک ہی نام سے یاد کئے جاتے ہیں۔