شری کرشن جی اور کلکی اوتار — Page 51
یعنی احمد نے اپنے رب سے پر حکمت شریعت کو حاصل کیا۔میں سورج کی مانند (اس سے ) روشن ہورہا ہوں۔“ مترجم عبد الحق صاحب ودیارتھی کتاب میثاق النبیین جلد اول صفحہ ۱۲۲، ناشر دار الاشاعت کتب اسلامیہ بمبئی) محترم عبد الحق صاحب ودیارتھی نے پتو کا ترجمہ رب کیا ہے جب کہ پتو کا اصل ترجمہ پتا یعنی باپ ہے۔جس کی تائید دیگر مفسرین وید نے کی ہے۔جس میں ڈاکٹر گوکل چند نارنگ ایم اے، جناب پنڈت راجہ رام جی دید بھاشیہ کار ، مولانا ناصر الدین فاضل، کاویہ تیرتھ وید بھوشن بنارس ہندو یو نیورسٹی شامل ہیں۔( ویدوں میں احمد صفحہ ۲۹،۲۶) بہت سے مفسرین وید نے atefifa کا ترجمہ ” میں کیا ہے۔حالانکہ ضمیر میں“ کے لئے 3 لفظ استعمال ہوتا ہے۔جیسا کہ اسی سوکت میں آیا بھی ہے جب کہ یہ لفظ جس کا ترجمہ ” میں کیا جاتا ہے وہ STAR ہے جو کہ علم ہے اور احمد کبھی بھی ضمیر کے طور پر استعمال نہیں ہوتا ہے۔الغرض جس مہرشی کے آنے کی پیش گوئی ویدوں میں اور کلکی پران میں موجود ہے اس کا نام احمد بیان ہوا ہے۔کلکی اوتار کے آنے کا مقام اتھر وید میں ایک رشی کے آنے کا ذکر ملتا ہے اور اس کے آنے کے مقام اور بہادری دکھانے کے مقام کو ” قدون بتایا گیا ہے۔( انتصر وید کا نڈ ۲۰ سوکت ۹۷ منتر ۳ بحوالہ مصلح آخر الزماں صفحہ ۲۹) آنے والے اوتار کا مقام مسلمانوں اور عیسائیوں کی کتب میں مشرق اور کدعہ“ بتایا گیا ہے۔