شری کرشن جی اور کلکی اوتار

by Other Authors

Page 52 of 60

شری کرشن جی اور کلکی اوتار — Page 52

اسی طرح کلکی اوتار کے آنے کا مقام سنبھل بھی بیان کیا جاتا ہے۔یہ کسی خاص مقام کا نام نہیں ہے بلکہ اس کے معنوں پر غور کرنا لازمی ہے۔سنبھل کے معنی ہندی لغت کی معتبر اور مشہور کتاب پدم چندر کوش میں میں یوں بیان ہوئے ہیں : (۱) شانتی کی جگہ (۲) پوترستھان (۳) اینشور کی پوجا کا ستھان اسی طرح اس کے معنی جلدی جلدی ترقی کرنے والا اور دلائل سے غالب آنے والے کے بھی ہوتے ہیں۔الغرض آنے والا کلکی اوتار خود ہندوؤں کے نزدیک ہندوستان میں آنے والا ہے۔اسی طرح ان حوالوں کی روشنی میں اس کے بہادری دکھانے کا مقام ” قدون کدعہ شانتی کی جگہ پوتر ستھان وغیرہ ہوگا۔کلکی اوتار کا ظہور جب برسات کا موسم آجائے اور برسات نہ ہو تو سارے ہی آسمان کی طرف نظر لگا کر دُعا کرتے ہیں اور گرمی کی شدت کو دیکھتے ہوئے اپنے اپنے خیالات کے مطابق لوگ اندازے لگاتے ہیں کہ اتنے دنوں کے اندر اندر بارش ہوگی بالکل اسی طرح خدا کی طرف سے آنے والے اوتار کے آنے کا جب وقت آجاتا ہے تو ساری دنیا ہی اندازے لگانا شروع کر دیتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج سے ایک سو سال پہلے ہر مذہب والے نے آنے والے اوتار کے بارے میں اندازے لگانے شروع کر دیئے تھے۔اور ان اندازہ لگانے والوں میں ہندو، مسلم ، سکھ، عیسائی سب شامل ہیں۔اور ہر مذہب سے حوالے پیش کئے جاسکتے ہیں۔یہ کیسے ممکن ہے کہ تمام لوگوں کے اندازے غلط ہوں۔اور پھر اس کھیکی اوتار کے آنے کی پیش گوئیاں سب نبیوں نے کی ہیں۔نبی خدا کی طرف سے علم پا کر بولتا ہے اگر ہم یہ کہیں کہ ان پیش