شری کرشن جی اور کلکی اوتار

by Other Authors

Page 43 of 60

شری کرشن جی اور کلکی اوتار — Page 43

کہن پھر مئے عرفاں پلادے ، ساقی - بزم خونِ دل سے پہینچ دیں تا بادہ کش اُجڑا چمن برق دل میں ہندوؤں کے پھر لگا ایسی لگن کلام جناب رام رکھامل برق بٹالوی پرتاپ کرشن نمبر ۱۱ اگست ۱۹۲۵) اس قسم کی کتنی ہی نظمیں آپ کی آمد ثانی کے شوق میں لوگوں کی لکھی ہوئی موجود ہیں۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شری کرشن نبی تھے اور نبی غلط بات بیان نہیں کرتا۔زمانہ بھی آپ کی پیش گوئیوں کے مطابق ویسا ہی آگیا تو پھر آخر کرشن تشریف کیوں نہ لائے؟ اس ضمن میں عرض ہے کہ ہر مذہب والا اس زمانہ میں ایک اوتار کا منتظر ہے اور تمام مذاہب کی کتب میں اس آنے والے اوتار کا زمانہ یہی بیان کیا گیا ہے اور ہر مذہب والا آنے والے کو اپنے مذہب سے ظاہر ہونے کے خیال پر بیٹھا ہے۔ہندوؤں کا خیال ہے کہ وہ ہندوؤں میں سے ہوگا۔عیسائیوں کا خیال ہے کہ وہ عیسائیوں میں سے ہوگا۔اور مسلمانوں کا خیال ہے کہ وہ مسلمانوں میں سے ہوگا۔اب سوال یہ ہے کہ کیا ہر مذہب میں ایک ایک اوتار ہوگا یا پھر سب مذاہب کی طرف ایک اوتار آئے گا تو اس کا جواب یہ ہے کہ او تا رسب کا ایک ہی ہوتا ہے اور ایک ہی ہوگا۔البتہ جس زمانہ میں ایک قوم کا دوسری قوم سے کوئی تعلق نہ تھا اور ایک قوم اپنے سوا کسی دوسری قوم کو جانتی ہی نہ تھی تو ایسے وقت میں الگ الگ قوموں میں الگ الگ نبی ضرور آئے لیکن خدا کی طرف سے لائی ہوئی تعلیم میں سب یکساں تھے جس کو خدا نے آہستہ آہستہ سلسلہ انبیاء کے ذریعہ سے ترقی دی اور جس وقت ساری دنیا ایک قوم کی صورت اختیار کرگئی تو پھر خدا نے ساری دنیا کے لئے ایک نبی کو مبعوث کیا تا کہ ساری دنیا وحدت پر قائم ہو جائے اور ایک گھر کی صورت اختیار کرے۔