شری کرشن جی اور کلکی اوتار

by Other Authors

Page 32 of 60

شری کرشن جی اور کلکی اوتار — Page 32

اس کے بندوں کے نزدیک بُری ہے۔ہمارے نزدیک اس واقعہ میں بھی بڑی گہری فلاسفی پائی جاتی ہے جس کو غلط رنگ میں تصویری زبان میں پیش کر دیا گیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ وہ عورتیں جو لباس اُتار کر نہاتی ہوئی دکھائی گئی ہیں وہ اصل میں شری کرشن جی کے شاگرد ہیں جن پر سے آپ نے گندگی کے لباس اُتارے اور پاک تعلیم سے جو پانی کی صورت میں دکھایا گیا ان کو نہلا یا بعدہ ان کو اچھا پاک اور صاف لباس دیا جو تقویٰ سے پر تھا۔اور اصل لباس تقوی ہی ہے اس کا ذکر قرآن کریم میں بھی موجود ہے۔خدا تعالیٰ قرآن کریم میں بیان فرماتا ہے : يُبَنِي آدَمَ قَدْ أَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُوَارِي سَوَاتِكُمْ وَرِيْشًا وَلِبَاسُ (الاعراف : ۲/۲۷) التَّقْوَى « ذُلِكَ خَيْرُ یعنی اے آدم کی اولاد ! ہم نے تمہارے لئے ایک ایسا لباس پیدا کیا ہے جو تمہاری چھپانے والی جگہوں کو چھپاتا ہے اوزینت کا موجب بھی ہے۔اور تقویٰ کا لباس تو سب سے بہتر لباس ہے۔الغرض انبیاء کا کام ہی تقویٰ کا قیام ہے۔اس لئے شری کرشن جی کے لئے بھی یہ لازمی تھا کہ وہ لوگوں کو تقویٰ کا لباس دیتے۔آپ نے یقینی طور پر وہی لباس ان لوگوں کو دیا جو تقویٰ کے لباس سے عاری اور بالکل ننگے تھے۔اس واقعہ میں شری کرشن جی کو جو درخت پر بیٹھا دکھایا گیا ہے وہ آپ کے بلند مقام کی نشاندہی کرتا ہے اور بلند مقام اسی کو حاصل ہوتا ہے جو متقی ہو جس کا اِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ اتفيكُمُ (الحجرات آیت (۱۴) میں اشارہ پایا جاتا ہے کہ تم میں سے اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عزت کے لائق وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔تو پھر کیا خدا کے انبیاء کے لئے اس ۳۲