شری کرشن جی اور کلکی اوتار

by Other Authors

Page 31 of 60

شری کرشن جی اور کلکی اوتار — Page 31

طرف سے لوگوں کی ہدایت کے لئے مختلف زمانوں میں مختلف تعلیمات لے کر آئے اور مرور زمانہ سے لوگوں نے ان میں تبدیلی پیدا کی۔پھر خدا نے دوسرے نبی کو مبعوث کیا جو سابقہ انبیاء کی اصل اور کچھ نئی تعلیم خدا کی طرف سے لایا اور اس کے زمانہ میں پائی جانے والی تعلیم کو اس نے رطب و یابس سے پاک کیا۔حضرت کرشن جی مہاراج نے بھی اپنے زمانہ میں یہی کام کیا۔آپ نے سابقہ کتب سے صحیح تعلیم کو لے کر لوگوں کے سامنے پیش کیا اور جو رطب و یابس اس میں لوگوں نے ملا دیا تھا اس کو چھوڑ دیا گویا آپ نے اس زمانہ کی تعلیمات کو متھ کر اس میں سے اصل نکال کر جو مکھن کی طرح تھا لوگوں کے سامنے پیش کیا۔(۲) نہاتی عورتوں کے کپڑے اُٹھانے کی حقیقت :: دوسرا ایک بڑا الزام جو حضرت کرشن جی کی زندگی پر لگایا جاتا ہے اور جس کو اگر بعینہ تسلیم کر لیا جائے تو آپ کی ذات اسفل سافلین میں شمار ہوگی (نعوذ باللہ )۔وہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ کچھ عورتیں تالاب میں نہا رہی تھیں تو شری کرشن جی آئے اور ان عورتوں کے کپڑے لے کر ایک درخت پر چڑھ گئے۔جب ان عورتوں کو اس بات کا علم ہوا کہ ہمارے کپڑے شری کرشن جی لے گئے ہیں تو انہوں نے شری کرشن جی سے کپڑے مانگے۔اس پر شری کرشن جی نے ان سے کہا کہ تم باری باری جنگی ہی نکل کر میرے پاس آؤ تب میں تم کو کپڑے دوں گا۔آج کے اس تہذیب یافتہ دور میں بھی ایسی تصویریں دیکھنے کو ملتی ہیں کہ شری کرشن جی درخت پر بیٹھے ہیں اور عورتیں پانی میں ننگی کھڑی ان سے کپڑوں کی التجا کرتی ہیں۔آج کے دور میں اگر کوئی شخص ایسا کرے تو لا زما وہ قابل گرفت ہو گا اور اس کو سزا دی جائے گی اور پھر سوسائٹی میں بھی لوگ اسے بری نظر سے دیکھیں گے تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ خدا کا نبی ایسی حرکت کرتا جو خدا اور