شری کرشن جی اور کلکی اوتار

by Other Authors

Page 20 of 60

شری کرشن جی اور کلکی اوتار — Page 20

دریائے گنگ میں ایک طرف خاتم الرسل جناب سرور کائنات خلاصۂ موجودات فخر خاندان آدم رحمت عالم باعث ایجاد ارض و سماء سپه دار شکر انبیاء احمد مجتبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم مع صحابہ کرام تشریف لائے اور ایک مجلس آراستہ و پیراستہ ہوئی۔دوسری طرف مہاراج شری کرشن جی مع اپنے رفیقوں کے رونق افروز ہوئے اور ایک سبھا جم گئی۔کرشن جی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ ان کو سمجھائے یہ کیا کرتے ہیں۔حضرت نے کہا کہ مہاراج تم ہی سمجھاؤ۔پھر مہاراج نے مجھ کو بلایا اور کہا کہ سنو برخوردار تمہارے ہاں کیا کچھ نہیں جو دوسری طرف ڈھونڈھتے ہو۔کیا تم نے دوئی سمجھی ہے۔یہاں اور وہاں سب ایک بات ہے۔“ (تذکره خوشیه ملفوظات صفحہ ۴۸ مطبع مجتبائی دہلی ۱۹۱۱) موجودہ زمانہ کے صوفیا میں خواجہ حسن نظامی صاحب کا بڑا مقام ہے۔آپ نے بھی اسلاف کے صوفیاء کرام کی طرح شری کرشن جی کو نبی بیان کیا ہے اور آپ نے کرشن بیتی کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے اس میں آپ تحریر فرماتے ہیں : وو سری کرشن بھی ہندوستان کے ہادی تھے ان کو بھی ایک بڑی اور اعلیٰ (کرشن بیتی صفحه ۳۹) قوم کی رہبری پر مامور کیا۔“ نیز لکھا ہے : وو شری کرشن کی ذات در حقیقت اللہ تعالیٰ کی جانب سے ظالموں کی تباہی اور بربادی 66 کے لئے مامور ہوئی تھی۔“ (کرشن بیتی (۹۱) اسی طرح شری کرشن جی مہاراج کو مخاطب کرتے ہوئے لکھتے ہیں :