شری کرشن جی اور کلکی اوتار — Page 11
ہندوستان کے انبیاء کی آمد کا زمانہ بہت پہلے کا بیان کیا جاتا ہے اور جو تعلیم جتنی زیادہ پرانی ہو اتنے ہی زیادہ قصے اور کہانیاں اس کی طرف منسوب کر دیئے جاتے ہیں۔شری کرشن جی کا زمانہ ہزاروں سال پرانا ہے۔آپ کی سوانح حیات کے ساتھ بہت سے اس قسم کے قصے جوڑ دیئے گئے ہیں کہ اگر ان کو سچ تسلیم کر لیا جائے تو ان سے شری کرشن جی کا نبی ہونا تو کجا ایک شریف انسان ہونا بھی ثابت نہیں ہو سکتا لیکن شری کرشن جی کی طرف ایسی جتنی بھی باتیں منسوب کی جاتی ہیں جو آپ کی شان کو کم کرتی ہیں وہ صرف اور صرف قصوں اور کہانیوں کی صورت میں موجود ہیں اور حقیقت میں آپ کی زندگی کے ساتھ ظاہری طور پر اس کا کوئی تعلق نہیں۔جن باتوں کو ظاہر میں لے لیا گیا ہے، ان کے پیچھے بہت سی حقیقتیں پوشیدہ ہیں۔ان کو چھوڑ کر صرف ظاہر پر محمول کرنا بالکل غلط ہے۔اور اگر ان کی کوئی تعبیر یا تو جیہ نہ کی جائے تو سوائے نبی کی شان کو گرانے کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔جیسا کہ میں نے شروع میں ذکر کیا تھا کہ دنیا میں آنے والے انبیاء کی تعلیم میں یکسانیت پائی جاتی ہے۔تعلیم خواہ کتنی بھی مل جل گئی ہولیکن اس کا اصل قائم رہتا ہے اور ہر نبی کی تعلیم کا اصل توحید ہے۔یہی وجہ ہے کہ باوجود اس کے کہ ہندو مذہب میں سوائے شرک کے اور کچھ دیکھنے میں نہیں ملتا۔شری کرشن جی کی طرف منسوب ہونے والی کتاب گیتا میں تو حید کی تعلیم موجود ہے۔11