شری کرشن جی اور کلکی اوتار

by Other Authors

Page 48 of 60

شری کرشن جی اور کلکی اوتار — Page 48

میں محدود ہوتا ہے۔جب بھی کبھی خدا کی طرف سے کوئی نبی مبعوث ہوتا ہے تو اس کی آمد کے ساتھ ہی ست یگ کا آغاز ہو جاتا ہے اور کلیگ کا خاتمہ اور بھگوت پر ان میں ست یگ کے آغاز کی ایک نشانی اس طرح بیان کی گئی ہے۔यदा चन्द्रक्ष्य सूर्यक्ष्य तिव्य बृहस्पति एक राशौ समेव्यन्ति तथा भवति तत्कृतम شریمد بھاگوت پر ان سکند ۱۲، ادھیائے ۲ ،شلوک (۲۴) یعنی جب کچھ کھشتر میں چندر ما اور سورج اور بر جسپتی ایک راشی میں جمع ہوتے ہیں تب ست یگ کا آغاز ہو جاتا ہے۔یہ نشان شری وید و یاس جی نے بیان کیا ہے۔انجیل مقدس میں بھی جہاں مسیح علیہ السلام کے دوبارہ آنے کا ذکر ہے وہاں آتا ہے کہ اور فورا اُن دنوں کی مصیبت کے بعد سورج تاریک ہو جائے گا اور چاند روشنی نہ دے گا اور ستارے آسمان سے گریں گے اور آسمانوں کی قوتیں ہلائی جائیں گی۔اور اُس وقت ابن آدم کا نشان آسمان پر دکھائی دے گا۔وو متی باب ۲۴ ، آیت ۳۰،۲۹) اس میں بھی وہی مضمون بیان ہوا ہے جو دید ویاس جی نے پران کے اس حوالہ سے جو اوپر گزر چکا ہے نکالا ہے۔کیونکہ سورج چاند اور زمین جب بھی ایک راشی میں جمع ہوتے ہیں تو سورج یا چاند کو گرہن لگتا ہے جس کے نتیجہ میں سورج اور چاند روشنی دینا بند کر دیتے ہیں۔سورج چاند کو عام طور پر گرہن ہوتا ہی رہتا ہے لیکن جس لوگ کا یہاں ذکر کیا گیا ہے وہ عام لوگ نہیں بلکہ ایک خاص لوگ ہے جو ایک خاص اوتار کی آمد پر خاص طور پر پڑتا تھا۔وہ وہی اوتار