شری کرشن جی اور کلکی اوتار

by Other Authors

Page 49 of 60

شری کرشن جی اور کلکی اوتار — Page 49

ہونا تھا جو شری کرشن مسیح ابن مریم اور مہدی کے روپ میں ظاہر ہونا تھا۔اسی خاص یوگ کے بارے میں حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی ایک پیشگوئی موجود ہے آپ فرماتے ہیں : إِنَّ لِمَهْدِينَا أَيَتَيْنِ لَمْ تَكُونَا مُنْذُ خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ يَنْكَسِفُ الْقَمَرُ لِاَوَّلِ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ وَتَنْكَسِفُ الشَّمسُ فِي النِّصْفِ مِنْهُ - (سنن دار قطنی صفحه ۸۸ ابابصفةصلوٰةالخسوف والكسوف وهَيْئَتِهِمَا ، مطبع فاروقی دہلی) فرمایا ہمارے مہدی کی صداقت کے دو نشان ہیں جو زمین و آسمان کی تخلیق کے دن سے آج تک کسی کے لئے ظاہر نہیں ہوئے یعنی ماہِ رمضان میں چاند کو ( چاند گرہن کی راتوں سے ) پہلی رات کو اور سورج کو ( سورج گرہن کی تاریخوں میں سے ) درمیانی تاریخ کو گرہن ہوگا۔یہ وہی مضمون ہے جو پران اور انجیل میں مذکور ہے۔چونکہ اس نشانی کا ظہور ایک خاص اوتار کے لئے ہونا تھا جس کے ظہور سے ست یگ کا آغاز ہونا تھا اسی لئے ہی تینوں بڑے مذاہب میں اس نشانی کا ذکر موجود ہے۔قارئین کرام ! یہ خاص نشان کہ سورج اور چاند اور برہمسپتی ایک راشی میں جمع ہوکر روشنی دینا بند کریں گے جو کہ گرہن کی صورت میں ہونا تھا ، ۱۸۹۴ء میں ہو چکا اور حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی واضح پیش گوئی کے مطابق یہ لوگ ۱۸۹۴ء کے ماہِ رمضان کی تیرہویں تاریخ کو چاند کو گرہن لگنے اور اٹھائیسویں رمضان کو سورج کو گرہن لگنے سے پڑچکا وو ہے۔اس تعلق سے اخبار آزاد نے لکھا : امام مہدی علیہ السلام کی صداقت پر گواہ یہ عظیم الشان نشان ۱۸۹۴ء میں ۳۱۱ ہجری کے رمضان المبارک کی مقررہ تاریخوں تیرہویں اور اٹھائیسویں پر ظاہر ہوا۔“ ( اخبار آزاد ۴ رمئی ۱۸۹۴ ) ( سول اینڈ ملٹری گزٹ ۱/۶ پریل ۱۸۹۴ء) ۴۹