شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 65 of 203

شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 65

غالب آجاتی ہے۔لیکن جب اپنے تئیں ذلیل و حقیر سمجھتا ہے اور اپنے اندر اللہ تعالی کی مدد کی ضرورت محسوس کرتا ہے اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک چشمہ پیدا ہو جاتا ہے جس سے اس کی روح گداز ہو کر بہت نکلتی ہے اور یہی استغفار کے معنی ہیں۔یعنی یہ کہ اس قوت کو پا کر زہریلے مواد پر غالب آجاوے“۔(ملفوظات جلداول صفحه ۳۴۸-۳۴۹مطبوعه ربوه) اللہ تعالیٰ کی حمد کرتے رہیں پھر اس تیسری شرط میں ایک یہ بات بھی شامل ہے کہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی حمد کرتارہے گا۔اس بارہ میں قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ (الفاتحہ آیت (۲) تمام حمد اللہ ہی کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِى لَهُ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَ لَهُ الْحَمْدُ فِي الْآخِرَةِ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِيرُ۔( سورة سبا آیت ۲) سب حمد اللہ ہی کی ہے جس کا وہ سب کچھ ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور آخرت میں بھی تمام تر حمد اُسی کی ہوگی اور وہ بہت حکمت والا ( اور ) ہمیشہ خبر رکھتا ہے حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: ہرا ہم کام اگر خدا تعالیٰ کی حمد کے بغیر شروع کیا جائے وہ ناقص رہتا ہے۔ہے۔ایک دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ ہر کلام جو اللہ کی حمد کے بغیر شروع کیا جائے وہ بے برکت اور بے اثر ہوتا ہے۔(سنن ابن ماجه ابواب النکاح اور سنن ابو داؤد کتاب الادب) 65