شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 64 of 203

شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 64

استغفار اور توبہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ” وَ أَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْا اِلَيْهِ ) - (1) یا درکھو کہ یہ دو چیزیں اس امت کو عطا فرمائی گئی ہیں۔ایک قوت حاصل کرنے کے واسطے۔دوسری حاصل کردہ قوت کو عملی طور پر دکھانے کے لئے۔قوت حاصل کرنے کے واسطے استغفار ہے جس کو دوسرے لفظوں میں استمد اد اور استعانت بھی کہتے ہیں۔صوفیوں نے لکھا ہے کہ جیسے ورزش کرنے سے مثلاً مگدروں اور موگریوں کو اٹھانے اور پھیرنے سے جسمانی قوت اور طاقت بڑھتی ہے اسی طرح پر روحانی مگدر استغفار ہے۔اس کے ساتھ روح کو ایک قوت ملتی ہے اور دل میں استقامت پیدا ہوتی ہے۔جسے قوت لینی مطلوب ہو وہ استغفار کرے۔غفر ڈھانکنے اور دبانے کو کہتے ہیں۔استغفار سے انسان ان جذبات اور خیالات کو ڈھانپنے اور دبانے کی کوشش کرتا ہے ( جو ) خدا تعالیٰ سے روکتے ہیں۔پس استغفار کے یہی معنے ہیں کہ زہریلے مواد جو حملہ کر کے انسان کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں ان پر غالب آوے اور خدا تعالیٰ کے احکام کی بجا آوری کی راہ کی روکوں سے بیچ کر انہیں عملی رنگ میں دکھائے۔یہ بات بھی یادرکھنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان میں دو قسم کے مادے رکھے ہیں۔ایک سمی مادہ ہے جس کا موکل شیطان ہے اور دوسرا تریاقی مادہ ہے۔جب انسان تکبر کرتا ہے اور اپنے تئیں کچھ سمجھتا ہے اور تریاقی چشمہ سے مدد نہیں لیتا تو سمی قوت (۱) هود آیت ۴۔64