شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 26
زنا سے بچو پھر اسی شرط دوم میں زنا سے بچنے کی شرط ہے۔تو اس بارہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَى إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا (بنی اسرائیل آیت ۳۳) یعنی زنا کے قریب نہ جاؤ یقیناً یہ بے حیائی ہے اور بہت برا راستہ ہے۔ایک حدیث ہے۔محمد بن سیرین روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے درج ذیل امور کی نصیحت فرمائی، پھر ایک لمبی روایت بیان کی جس میں سے ایک نصیحت یہ ہے کہ عفت یعنی پاکدامنی اور سچائی ، زنا اور کذب بیانی کے مقابلہ میں بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔(سنن دار قطنی ، کتاب الوصايا، باب ما يستحب بالوصية من التشهد والكلام) یہاں زنا اور جھوٹ دونوں کو اکٹھا بیان کیا گیا ہے اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ جھوٹ کتنا بڑا گناہ ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : زنا کے قریب مت جاؤ یعنی ایسی تقریبوں سے دور رہو جن سے یہ خیال بھی دل میں پیدا ہو سکتا ہو۔اور ان راہوں کو اختیار نہ کرو جن سے اس گناہ کے وقوع کا اندیشہ ہو۔جوز نا کرتا ہے وہ بدی کو انتہا تک پہنچا دیتا ہے۔زنا کی راہ بہت بری ہے یعنی منزل مقصود سے روکتی ہے اور تمہاری آخری منزل کیلئے سخت خطرناک ہے۔اور جس کو نکاح میسر نہ آوے چاہئے کہ وہ اپنی عفت کو دوسرے طریقوں سے بچاوے۔مثلاً روزہ رکھے یا کم کھاوے یا اپنی طاقتوں سے تن آزار کام لے۔“ اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد۱۰ صفحه ۳۴۲ ) 26