شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 122 of 203

شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 122

اور سوائے عبادالرحمن کے کہ وہ عموماً اللہ تعالیٰ کے خاص بندے ہوتے ہیں، عبادت گزار ہوتے ہیں، اس حملہ سے بچتے رہتے ہیں۔اس کے علاوہ عموماً تکبر کا ہی یہ ذریعہ ہے جس کے ذریعہ شیطان انسان کو اپنی گرفت میں لینے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔یہ ایک ایسی چیز ہے جس کو معمولی نہیں سمجھنا چاہئے۔کہ ہم نے بیعت کرتے ہوئے شرط تسلیم کر لی کہ تکبر نہیں کریں گے نخوت نہیں کریں گے، اس کو بکلی چھوڑ دیں گے۔یہ اتنا آسان کام نہیں ہے۔اس کی مختلف قسمیں ہیں مختلف ذریعوں سے انسانی زندگی پر شیطان حملہ کرتا رہتا ہے۔بہت خوف کا مقام ہے۔اصل میں تو اللہ تعالیٰ کا فضل ہی ہو تو اس سے بچا جاسکتا ہے۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے کے لئے بھی اس ساتویں شرط میں ایک راستہ رکھ دیا۔فرمایا جب تم تکبر کی عادت کو چھوڑو گے تو جو خلا پیدا ہو گا اس کو اگر عاجزی اور فروتنی سے پر نہ کیا تو تکبر پھر حملہ کرے گا۔اس لئے عاجزی کو اپناؤ کیونکہ یہی راہ اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔آپ نے خود بھی اس عاجزی کو اس انتہا ء تک پہنچا دیا جس کی کوئی مثال نہیں۔تبھی تو اللہ تعالیٰ نے خوش ہو کر آپ کو الہاماً فرمایا کہ ” تیری عاجزانہ را ہیں اس کو پسند آئیں۔تو ہمیں جو آپ کی بیعت کے دعویدار ہیں ، آپ کو امام الزمان مانتے ہیں ، کس حد تک اس خُلق کو اپنانا چاہئے۔انسان کی تو اپنی ویسے بھی کوئی حیثیت نہیں ہے کہ تکبر دکھائے اور اکڑتا پھرے۔قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ولَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا إِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا - بنی اسرائیل آیت (۳۸) اور زمین میں اکڑ کر نہ چل۔تو یقیناً زمین کو پھاڑ نہیں سکتا اور نہ وو 122