شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 123
قامت میں پہاڑوں کی بلندی تک پہنچ سکتا ہے۔جیسا کہ اس آیت سے صاف ظاہر ہے انسان کی تو کوئی حیثیت ہی نہیں ہے۔کس بات کی اکثر فوں ہے۔بعض لوگ اپنے آپ کو بادشاہ وقت سمجھ رہے ہوتے ہیں ، اپنے دائرہ سے باہر نکلنا نہیں چاہتے۔اور اپنے دائرے میں بیٹھے سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ ہم بڑی چیز ہیں۔اس کی مثال اس وقت میں ایک چھوٹے سے چھوٹے دائرہ کی دیتا ہوں، جو ایک گھر یلو معاشرے کا دائرہ ہے، آپ کے گھر کا ماحول ہے۔بعض مرد اپنے گھر میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ ایسا ظالمانہ سلوک کر رہے ہوتے ہیں کہ روح کانپ جاتی ہے۔بعض بچیاں لکھتی ہیں کہ ہم بچپن سے اپنی بلوغت کی عمر کو پہنچ چکی ہیں اور اب ہم سے برداشت نہیں ہوتا۔ہمارے باپ نے ہماری ماں کے ساتھ اور ہمارے ساتھ ہمیشہ ظلم کا رویہ رکھا ہے۔باپ کے گھر میں داخل ہوتے ہی ہم سہم کر اپنے کمروں میں چلے جاتے ہیں۔کبھی باپ کے سامنے ہماری ماں نے یا ہم نے کوئی بات کہہ دی جو اس کی طبیعت کے خلاف ہو تو ایسا ظالم باپ ہے کہ سب کی شامت آجاتی ہے۔تو یہ تکبر ہی ہے جس نے ایسے باپوں کو اس انتہا تک پہنچا دیا ہے اور اکثر ایسے لوگوں نے اپنا رویہ باہر بڑا اچھا رکھا ہوتا ہے اور لوگ باہر سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ ان جیسا شریف انسان ہی کوئی نہیں ہے۔اور باہر کی گواہی ان کے حق میں ہوتی ہے۔بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو گھر کے اندر اور باہر ایک جیسا رویہ اپنائے ہوئے ہوتے ہیں ان کا تو سب کچھ ظاہر ہو جاتا ہے۔تو ایسے بدخلق اور متکبرلوگوں کے بچے بھی ، خاص طور پر لڑ کے جب جوان ہوتے ہیں تو اس ظلم کے رد عمل کے طور پر جو اُن باپوں نے ان بچوں کی ماں یا بہن یا 123)