شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 104 of 203

شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 104

ایک کو اپنا جائزہ لینا چاہئے۔اگر ہم اس عہد بیعت پر قائم ہیں، اپنے خدا سے ڈرتے ہوئے ہوا و ہوس سے رکے ہوئے ہیں اور ہم اس پیارے خدا کی تعریف کرتے ہوئے حمد کرتے ہوئے پھر اسکی طرف جھکتے ہیں تو وہ ہمیں اس کے عوض اپنی جنت کی بشارت دے رہا ہے۔جیسا کہ فرمایا وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَى فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَــأوى (النازعات: آیات ۴۱-۴۲) اور وہ جو اپنے رب کے مرتبہ سے خائف ہوا اور اس نے اپنے نفس کو ہوس سے روکا تو یقیناً جنت ہی اس کا ٹھکانہ ہوگی۔رسم و رواج کے بارہ میں چند احادیث پیش کرتا ہوں۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ آنحضرت نے فرمایا: جو شخص دین کے معاملہ میں کوئی ایسی نئی رسم پیدا کرتا ہے جس کا دین سے کوئی تعلق نہیں تو وہ رسم مردود اور غیر مقبول ہے۔(بخاری کتاب الصلح باب اذا اصطلحوا على صلح جود) حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے ہمیں خطاب فرمایا۔آپ کی آنکھیں سرخ ہو گئیں۔آواز بلند ہوگئی۔جوش بڑھ گیا گویا یوں لگتا تھا کہ آپ کسی حملہ آور لشکر سے ہمیں ڈرا رہے ہیں۔آپ نے فرمایا وہ لشکر تم پر صبح کو حملہ کرنے والا ہے یا شام کو۔آپ نے یہ بھی فرمایا : میں اور وہ گھڑی یوں اکٹھے بھیجے گئے ہیں۔آپ نے یہ کہتے ہوئے انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کو ملا کر دکھایا کہ ایسے جیسے یہ دو انگلیاں اکٹھی ہیں۔آپ نے یہ بھی فرمایا : اب میں تمہیں یہ 104)