شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 90 of 203

شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 90

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے۔اس کے سارے کام برکت ہی برکت ہوتے ہیں۔یہ فضل صرف مومن کیلئے ہی مختص ہے۔اگر اس کو کوئی خوشی و مسرت اور فراخی نصیب ہو تو اللہ تعالیٰ کا شکر کرتا ہے اور اس کی شکر گزاری اس کیلئے مزید خیر و برکت کا موجب بنتی ہے۔اور اگر اس کو کوئی دُکھ رنج تنگی اور نقصان پہنچے تو وہ صبر کرتا ہے۔اس کا یہ طرز عمل بھی اس کیلئے خیر و برکت کا ہی باعث بن جاتا ہے کیونکہ وہ صبر کر کے ثواب حاصل کرتا ہے۔(مسلم) كتاب الذهد باب المومن امره كله خير) پھر بعض دفعہ اولاد کے ذریعہ سے بھی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزماتا ہے۔اولاد کے فوت ہونے کی صورت میں بہت زیادہ ماتم کیا جاتا ہے خاص طور پر عورتوں میں۔اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ جماعت احمدیہ کو اس نے بہت صبر کرنے والوں اور اس کی رضا پر راضی رہنے والی ماؤں سے نوازا ہے۔لیکن بعض دفعہ بعض جگہوں سے شکوے کے اظہار بھی ہو جاتے ہیں خاص طور پر کم پڑھے لکھے طبقے میں اور صرف خاص کم پڑھے لکھے طبقے میں ہی نہیں ، پڑھے لکھوں میں بھی میں نے دیکھا ہے۔ناشکری اور شکوہ کے الفاظ منہ سے نکل جاتے ہیں۔صلى الله ایک روایت ہے کہ آنحضرت لہ خواتین سے بیعت کے وقت اس بات پر عہد لیا کرتے تھے۔حدیث اس طرح ہے۔حضرت اُسید ایک دستی بیعت کرنے والی صحابیہ سے روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت لیتے وقت جو عہد ان سے لیا اس میں یہ بات بھی تھی کہ ہم حضور کی نافرمانی نہیں 90