شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 89
مَّرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبَادِي وَادْخُلِي جَنَّتِي ﴾ (الفجر آیات ۲۸ تا ۳۱)۔یعنی اے نفس مطمئنہ ! اپنے رب کی طرف لوٹ جا، راضی رہتے ہوئے اور رضا پاتے ہوئے۔پس میرے بندوں میں داخل ہو جا۔اور میری جنت میں داخل ہو جا۔راضی بقضاء رہنے والوں اور اس کی خاطر دکھ اور مصیبت اٹھانے والوں کو خدا کبھی بغیر جزاء کے نہیں چھوڑتا۔ہم میں سے کئی ایسے ہیں جو غلطیوں کو تا ہیوں اور کمزوریوں کے پتلے ہیں اور ہم سے کئی غلطیاں اور گناہ سرزد ہو جاتے ہیں لیکن اگر اللہ تعالیٰ کی قضاء پر راضی رہنے کی عادت ہے، اُس کی خاطر ہر مصیبت اٹھانے کیلئے تیار ہیں اور اُٹھاتے ہیں ، اُن عورتوں کی طرح نہیں جو ذرہ سے نقصان پر آسمان سر پر اٹھا لیتی ہیں۔شور مچا کر اور واویلا کر کے آسمان سر پر اٹھایا ہوا ہوتا ہے، تو ایسے صبر کرنے والوں کے لئے خدا کے رسول ﷺ یہ خوش خبری دیتے ہیں۔تکالیف گناہوں کا کفارہ ہو جاتی ہیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی مسلمان کو کوئی مصیبت کوئی ڈکھ کوئی رنج وغم کوئی تکلیف اور پریشانی نہیں پہنچتی یہاں تک کہ ایک کانٹا بھی نہیں چھتا مگر اللہ تعالیٰ اس کی تکلیف کو اس کے گناہوں کا کفارہ بنا دیتا ہے۔مسلم كتاب البر والصلة باب ثواب المومن فيما يصيبه من مرض أو حزن) پھر ایک روایت کہ حضرت صہیب بن سنان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں 89