شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 63
پھر آپ نے فرمایا۔جب خدا سے طاقت طلب کریں یعنی استغفار کریں تو روح القدس کی تائید سے ان کی کمزوری دور ہو سکتی ہے اور وہ گناہ کے ارتکاب سے بیچ سکتے ہیں جیسا کہ خدا کے نبی اور رسول بچتے ہیں۔اور اگر ایسے لوگ ہیں کہ گنہگار ہو چکے ہیں تو استغفار ان کو یہ فائدہ پہنچاتا ہے کہ گناہ کے نتائج سے یعنی عذاب سے بچائے جاتے ہیں کیونکہ نور کے آنے سے ظلمت باقی نہیں رہ سکتی۔اور جرائم پیشہ جو استغفار نہیں کرتے یعنی خدا سے طاقت نہیں مانگتے۔وہ اپنے جرائم کی سزا پاتے رہتے ہیں“۔(کشتی نوح روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۳۴) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: بعض آدمی ایسے ہیں کہ ان کو گناہ کی خبر ہوتی ہے اور بعض ایسے کہ ان کو گناہ کی خبر بھی نہیں ہوتی۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کے لئے استغفار کا التزام کرایا ہے کہ انسان ہر ایک گناہ کے لئے خواہ وہ ظاہر کا ہو خواہ باطن کا ہوا سے علم ہو یا نہ ہو اور ہاتھ اور پاؤں اور زبان اور ناک اور کان اور آنکھ اور سب قسم کے گناہوں سے استغفار کرتا رہے۔آج کل آدم علیہ السلام کی دعا پڑھنی چاہئے۔﴿رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا۔وَإِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِيْن۔(۱) یہ دعا اول ہی قبول ہو چکی ہے۔غفلت سے زندگی بسر مت کرو۔جو شخص غفلت سے زندگی نہیں گزارتا ہرگز امید نہیں کہ وہ کسی فوق الطاقت بلا میں مبتلا ہو۔کوئی بلا بغیر اذن کے نہیں آتی جیسے مجھے یہ دعا الہام ہوئی: رَبِّ كُلُّ شَيْءٍ خَادِمُكَ رَبِّ فَاحْفَظْنِيْ وَانْصُرْنِي (ملفوظات جلد دوم صفحه ۵۷۷ جدید ایڈیشن) وَارْحَمْنِي“۔(1) الاعراف آیت ۲۴ 63