شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 59 of 203

شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 59

نور کی مشکیں ہیں اور کہتے ہیں ”هذا بمَا صَلَّيْتَ عَلَى مُحَمَّدٍ ، 66 (حقيقة الوحى، حاشیه صفحه ۱۲۸ ، روحانی خزائن جلد نمبر ۲۲ صفحه ۱۳۱ حاشیه) یعنی یہ برکات اس درود کی وجہ سے ہیں جو تو نے محمد ﷺ پر بھیجا تھا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔” درود شریف کے طفیل۔میں دیکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فیوض عجیب نوری شکل میں آنحضرت ﷺ کی طرف جاتے ہیں اور پھر وہاں جا کر آنحضرت ﷺ کے سینے میں جذب ہو جاتے ہیں۔اور وہاں سے نکل کر ان کی لا انتہا نالیاں ہو جاتی ہیں اور بقد رحصہ رسدی ہر حقدار کو پہنچتی ہیں۔یقیناً کوئی فیض بدوں وساطت آنحضرت ﷺ دوسروں تک پہنچ ہی نہیں سکتا۔درود شریف کیا ہے؟ رسول اللہ ﷺ کے اس عرش کو حرکت دینا ہے جس سے یہ نور کی نالیاں نکلتی ہیں۔جو اللہ تعالیٰ کا فیض اور فضل حاصل کرنا چاہتا ہے اس کو لازم ہے کہ وہ کثرت سے درود شریف پڑھا کرے تا کہ اس فیض میں حرکت پیدا ہو“۔(الحكم۔بتاريخ ۲۸ فروری ۱۹۰۳ء۔صفحه) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔”انسان تو دراصل بندہ یعنی غلام ہے۔غلام کا کام یہ ہوتا ہے کہ مالک جو حکم کرے، اُسے قبول کرے۔اسی طرح اگر تم چاہتے ہو کہ آنحضرت ﷺ کے فیض حاصل کرو تو ضرور ہے کہ اس کے غلام ہو جاؤ۔قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ يَعِبَادِيَ الَّذِيْنَ أَسْرَفُوْا عَلَى اَنْفُسِهِمْ اس جگہ بندوں سے مراد غلام ہی ہیں نہ کہ مخلوق۔رسول کریم ﷺ کے بندہ الله 59