شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 24 of 203

شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 24

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام مزید فرماتے ہیں: اور منجملہ انسان کی طبعی حالتوں کے جو اس کی فطرت کا خاصہ ہے سچائی ہے۔انسان جب تک کوئی غرض نفسانی اس کی محرک نہ ہو جھوٹ بولنا نہیں چاہتا۔اور جھوٹ کے اختیار کرنے میں ایک طرح کی نفرت اور قبض اپنے دل میں پاتا ہے۔اسی وجہ سے جس شخص کا صریح جھوٹ ثابت ہو جائے اس سے ناخوش ہوتا ہے اور اس کو تحقیر کی نظر سے دیکھتا ہے۔لیکن صرف یہی طبعی حالت اخلاق میں داخل نہیں ہوسکتی بلکہ بچے اور دیوانے بھی اس کے پابند رہ سکتے ہیں۔سو اصل حقیقت یہ ہے کہ جب تک انسان ان نفسانی اغراض سے علیحدہ نہ ہو۔جو راست گوئی سے روک دیتے ہیں تب تک حقیقی طور پر راست گو نہیں ٹھہر سکتا۔کیونکہ اگر انسان صرف ایسی باتوں میں سچ بولے جن میں اس کا چنداں ہرج نہیں ( کچھ حرج نہیں ) اور اپنی عزت یا مال یا جان کے نقصان کے وقت جھوٹ بول جائے اور سچ بولنے سے خاموش رہے تو اس کو دیوانوں اور بچوں پر کیا فوقیت ہے۔کیا پاگل اور نابالغ لڑکے بھی ایسا ہی نہیں بولتے ؟ دنیا میں ایسا کوئی بھی نہیں ہوگا کہ جو بغیر کسی تحریک کے خواہ نخواہ جھوٹ بولے۔پس ایسا سچ جو کسی نقصان کے وقت چھوڑا جائے حقیقی اخلاق میں ہرگز داخل نہیں ہوگا۔سچ کے بولنے کا بڑا بھاری محل اور موقع وہی ہے جس میں اپنی جان یا مال یا آبرو کا اندیشہ ہو۔اس میں خدا کی تعلیم یہ ہے۔فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ﴾۔(۱) ﴿وَلَا يَأْبَ الشُّهَدَاءُ إِذَا مَا دُعُوْا (۲) ﴿ وَلَا تَكْتُمُوْا - الشَّهَادَةَ وَ مَنْ يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ اثِمَ قَلْبُهُ ﴾ - (٣) وَ إِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوْا وَلَوْ كَانَ (۱) الحج آیت ۳۱ (۲) البقرة آیت ۲۸۳ (۳) البقرة آیت ۲۸۴۔24