شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 21
عبادت نہیں کرتے کہ وہ ہمیں اللہ کے قریب کرتے ہوئے قرب کے اونچے مقام تک پہنچا دیں۔یقیناً اللہ اُن کے درمیان اُس کا فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے۔اللہ ہر گز اُسے ہدایت نہیں دیتا جو جھوٹا (اور ) سخت ناشکرا ہو۔صحیح مسلم میں ایک حدیث ہے۔عبداللہ بن عمرو بن العاص روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا چار باتیں ایسی ہیں جو جس میں پائی جائیں وہ خالص منافق ہے۔اور جس میں ان میں سے ایک بات پائی جائے اس میں نفاق کی ایک خصلت پائی جاتی ہے یہاں تک کہ وہ اس کو چھوڑ دے۔(۱) جب وہ گفتگو کرتا ہے تو کذب بیانی سے کام لیتا ہے۔( جب وہ باتیں کر رہا ہوتا۔تو اس میں جھوٹ کی ملاوٹ ہوتی ہے اور جھوٹی باتیں کر رہا ہوتا ہے )۔(۲) اور جب معاہدہ کرتا ہے تو غداری کا مرتکب ہوتا ہے۔(۳) اور جب وعدہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی کرتا ہے۔( یہ بھی جھوٹ کی ایک قسم ہے )۔(۴) اور جب جھگڑتا ہے تو گالی گلوچ سے کام لیتا ہے۔یہ ساری باتیں جھوٹ سے تعلق رکھنے والی ہیں۔پھر ایک حدیث ہے۔حضرت امام مالک بیان کرتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ عبداللہ بن مسعودؓ کہا کرتے تھے۔تمہیں سچائی اختیار کرنی چاہئے کیونکہ سچائی نیکی کی طرف راہنمائی کرتا ہے اور نیکی جنت کی طرف راہنمائی کرتی ہے۔جھوٹ سے بچو کیونکہ جھوٹ نافرمانی کی طرف لے جاتا ہے اور نافرمانی جہنم تک پہنچا دیتی ہے۔کیا آپ کو معلوم نہیں کہ کہا جاتا ہے کہ اس نے سچ بولا اور فرمانبردار ہو گیا اور جھوٹ بولا تو 21