شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 16 of 203

شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 16

ہزاروں بت جمع ہوں۔بلکہ جو شخص کسی اپنے کام اور مکر اور فریب اور متد پیر کو خدا کی سی عظمت دیتا ہے یاکسی انسان پر بھروسہ رکھتا ہے جو خداتعالی پر رکھنا چاہئے یا اپنے نفس کو وہ عظمت دیتا ہے جو خدا کو دینی چاہئے۔ان سب صورتوں میں وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک بت پرست ہے۔بت صرف وہی نہیں ہیں جو سونے یا چاندی یا پیتل یا پتھر وغیرہ سے بنائے جاتے اور ان پر بھروسہ کیا جاتا ہے بلکہ ہر ایک چیز یا قول یا فعل جس کو وہ عظمت دی جائے جو خدا تعالیٰ کا حق ہے وہ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں بت ہے۔یادر ہے کہ حقیقی تو حید جس کا اقرار خدا ہم سے چاہتا ہے اور جس کے اقرار سے نجات وابستہ ہے یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کو اپنی ذات میں ہر ایک شریک سے خواہ بت ہو، خواہ انسان ہو، خواہ سورج ہو یا چاند ہو یا اپنا نفس یا اپنی تدبیر اور مکرفریب ہو منزہ سمجھنا اور اس کے مقابل پر کوئی قادر تجویز نہ کرنا۔کوئی رازق نہ ماننا۔کوئی مُعِزّ اور مُذِلّ خیال نہ کرنا۔کوئی ناصر اور مددگار قرار نہ دینا۔اور دوسرے یہ کہ اپنی محبت اسی سے خاص کرنا۔اپنی عبادت اسی سے خاص کرنا۔اپنا تذلل اسی سے خاص کرنا۔اپنی امید میں اسی سے خاص کرنا۔اپنا خوف اسی سے خاص کرنا۔پس کوئی تو حید بغیر ان تین قسم کی تخصیص کے کامل نہیں ہوسکتی۔اوّل ذات کے لحاظ سے توحید یعنی یہ کہ اس کے وجود کے مقابل پر تمام موجودات کو معدوم کی طرح سمجھنا اور تمام کو ہالکتۃ الذات اور باطلۃ الحقیقت خیال کرنا۔دوم صفات کے لحاظ سے توحید یعنی یہ کہ ربوبیت اور الوہیت کی صفات بجز ذات باری کسی میں قرار نہ دینا۔اور جو بظاہر رب الانواع یا فیض رسان نظر آتے ہیں یہ اسی کے ہاتھ کا ایک نظام یقین کرنا۔تیسرے اپنی محبت اور صدق اور صفا کے لحاظ سے توحید یعنی 16