شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 170
کریں گی۔چوری نہیں کریں گی۔زنا نہیں کریں گی۔اولا د کو قتل نہیں کریں گی۔( اولاد کی تربیت کا خیال رکھیں گی ) جھوٹا الزام کسی پر نہیں لگا ئیں گی۔اور معروف امور میں نافرمانی نہیں کریں گی۔تو یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا نبی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور ہوتا ہے کیا وہ بھی ایسے احکامات دے سکتا ہے جو غیر معروف ہوں۔اور اگر نبی دے سکتا ہے تو پھر خلیفہ بھی ایسے احکامات دے سکتا ہے جو غیر معروف ہوں۔اس بارہ میں واضح ہو کہ نبی کبھی ایسے احکامات دے ہی نہیں سکتا۔نبی جو کہے گا معروف ہی کہے گا اس کے علاوہ کچھ نہیں کہے گا۔اس لئے قرآن شریف میں کئی مقامات پر یہ حکم ہے کہ تم نے اللہ اور رسول کے حکموں کی اطاعت کرنی ہے، انہیں بجالانا ہے۔کہیں نہیں یہ لکھا ہوا کہ جو معروف حکم ہو اس کی اطاعت کرنی ہے۔تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دو مختلف حکم کیوں ہیں۔لیکن دراصل یہ دو مختلف حکم نہیں ہیں۔بعضوں کے سمجھنے میں غلطی ہے۔تو جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ نبی کا جو بھی حکم ہوگا معروف ہی ہوگا اور نبی کبھی اللہ تعالیٰ کے احکامات کے خلاف ، شریعت کے احکامات کے خلاف کر ہی نہیں سکتا وہ تو اس کام پر مامور کیا گیا ہے۔تو جس کام کے لئے مامور کیا گیا ہے اس کے خلاف کیسے چل سکتا ہے۔یہ تو تمہارے لئے خوشخبری ہے کہ تم نبی کو مان کر ، مامور کو مان کر اس کی جماعت میں شامل ہو کر محفوظ ہو گئے ہو کہ تمہارے لئے اب کوئی غیر معروف حکم ہے ہی نہیں، جو بھی حکم ہے اللہ تعالیٰ کی نظر میں پسندیدہ ہے۔معروف اور غیر معروف کی تعریف بعض دفعہ بعض لوگ معروف فیصلہ یا معروف احکامات کی اطاعت کے چکر 170