شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 169
خدمت کرنا ہی ہے۔خادم کبھی کبھی بڑ بڑا بھی لیتے ہیں۔اس لئے ہمیشہ ذہن میں رکھو کہ خادمانہ حالت ہی ہے لیکن اس سے بڑھ کر ہے کیونکہ اللہ کی خاطر اخوت کا رشتہ بھی ہے اور اللہ کی خاطر اطاعت کا اقرار بھی ہے اور اس وجہ سے قربانی کا عہد بھی ہے۔تو قربانی کا ثواب بھی اس وقت ملتا ہے جب انسان خوشی سے قربانی کر رہا ہوتا ہے۔تو یہ ایک ایسی شرط ہے جس پر آپ جتنا غور کرتے جائیں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی محبت میں ڈوبتے چلے جائیں گے اور نظام جماعت کا پابند ہوتا ہوا اپنے آپ کو پائیں گے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لَّا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا يَسْرِقْنَ وَلَا يَزْنِيْنَ وَلَا يَقْتُلْنَ أَوْلَادَهُنَّ وَلَا يَأْتِيْنَ بِبُهْتَانِ يَفْتَرِيْنَهُ بَيْنَ أَيْدِيْهِنَّ وَاَرْجُلِهِنَّ وَلَا يَعْصِيْنَكَ فِي مَعْرُوفٍ فَبَايِعْهُنَّ وَاسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللَّهَ إِنَّ اللهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ ﴾ (الممتحنه آیت ۱۳) اے نبی ! جب مومن عورتیں تیرے پاس آئیں (اور ) اس (امر ) پر تیری بیعت کریں کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہرائیں گی اور نہ ہی چوری کریں گی اور نہ زنا کریں گی اور نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی اور نہ ہی (کسی پر ) کوئی جھوٹا الزام لگا ئیں گی جسے وہ اپنے ہاتھوں اور پاؤس کے سامنے گھڑ لیں اور نہ ہی معروف ( امور ) میں تیری نافرمانی کریں گی تو تو اُن کی بیعت قبول کر اور اُن کیلئے اللہ سے بخشش طلب کر۔یقیناً اللہ بہت بخشنے والا (اور ) بار بار رحم کرنے والا ہے۔اس آیت میں عورتوں سے اس پر عہد بیعت لینے کی تاکید ہے کہ شرک نہیں 169