شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 152 of 203

شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 152

بجز اسلام کے اور کسی کو نصیب ہی نہیں ہوئی۔مجھے صحت ہو جاوے تو میں اخلاقی تعلیم پر ایک مستقل رسالہ لکھوں گا کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ جو کچھ میرا منشا ہے وہ ظاہر ہو جاوے اور وہ میری جماعت کے لئے ایک کامل تعلیم ہو اور ابتغاء مرضات اللہ کی راہیں اس میں دکھائی جائیں۔مجھے بہت ہی رنج ہوتا ہے جب میں آئے دن یہ دیکھتا اور سنتا ہوں کہ کسی سے یہ سرزد ہوا اور کسی سے وہ۔میری طبیعت ان باتوں سے خوش نہیں ہوتی۔میں جماعت کو ابھی اس بچہ کی طرح پاتا ہوں جو دو قدم اٹھاتا ہے تو چار قدم گرتا ہے لیکن میں یقین رکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ اس جماعت کو کامل کر دے گا۔اس لیے تم بھی کوشش ، تدبیر، مجاہدہ اور دعاؤں میں لگے رہو کہ خدا تعالیٰ اپنا فضل کرے کیونکہ اس کے فضل کے بغیر کچھ بنتا ہی نہیں۔جب اس کا فضل ہوتا ہے تو وہ ساری راہیں کھول دیتا ہے۔“ (ملفوظات جلد چہارم صفحه ۲۱۸۔۲۱۹ جدید ایڈیشن) اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی قوت قدسیہ سے اور آپ کی تعلیم پر عمل کرنے سے بہت سی بیماریاں جن کا آپ کو اس وقت فکر تھا جماعت میں ختم ہوگئی تھیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک بہت بڑا حصہ ان سے بالکل پاک تھا اور ہے لیکن جوں جوں ہم اُس وقت اُس زمانے سے دور ہٹتے جارہے ہیں ، معاشرے کی بعض برائیوں کے ساتھ شیطان حملے کرتا رہتا ہے اس لئے جس فکر کا اظہار حضرت اقدس مسیح موعود علیہ اصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے آپ کی تعلیم کے مطابق ہی تدبیر اور دعا سے اللہ تعالیٰ کا فضل مانگتے ہوئے ان برائیوں سے بچنے کی کوشش کرتے رہنا چاہئے تا کہ اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کو 152