شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 153
ہمیشہ کامل رکھے۔اب میں اس بارہ میں چند احادیث پیش کرتا ہوں۔حضرت ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ عز وجل قیامت کے روز فرمائے گا اے ابن آدم ! میں بیمار تھا تو نے میری عیادت نہیں کی۔بندہ کہے گا۔اے میرے رب ! میں تیری عیادت کیسے کرتا جبکہ تو ساری دنیا کا پروردگار ہے۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔کیا تجھے پتہ نہیں چلا کہ میر افلاں بندہ بیمار تھا تو تو نے اس کی عیادت نہیں کی تھی۔کیا تجھے معلوم نہ تھا کہ اگر تم اس کی عیادت کرتے تو مجھے اس کے پاس پاتے۔اے ابن آدم ! میں نے تجھ سے کھانا طلب کیا تو تُو نے مجھے کھانا نہیں دیا۔اس پر ابن آدم کہے گا۔اے میرے رب ! میں تجھے کیسے کھانا کھلاتا جب کہ تو تو رب العالمین ہے۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔تجھے یاد نہیں کہ تجھ سے میرے فلاں بندہ نے کھاناما نگا تھا تو تو نے اسے کھانا نہیں کھلایا تھا۔کیا تجھے معلوم نہیں تھا کہ اگر تم اسے کھانا کھلاتے تو تم میرے حضور اس کا اجر پاتے۔اے ابن آدم ! میں نے تجھ سے پانی مانگا تھا مگر تو نے مجھے پانی نہیں پلایا تھا۔ابن آدم کہے گا۔اے میرے رب ! میں تجھے کیسے پانی پلاتا جب کہ تو ہی سارے جہانوں کا رب ہے۔اس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔تجھ سے میرے فلاں بندے نے پانی مانگا تھا۔مگر تم نے اسے پانی نہ پلایا۔اگر تم اس کو پانی پلاتے تو اس کا اجر میرے حضور پاتے۔(مسلم كتاب البر والصلة باب فضل عيادة المريض) پھر روایت ہے۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ 153