شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 149
ہے اور احسان تو اس نیت سے نہیں کیا جاتا کہ مجھے اس کا کوئی بدلہ ملے گا۔احسان تو انسان خالصتا اللہ تعالیٰ کی خاطر کرتا ہے۔تو پھر ایسا حسین معاشرہ قائم ہو جائے گا جس میں نہ خاوند بیوی کا جھگڑا ہوگا ، نہ ساس بہو کا جھگڑا ہوگا ، نہ بھائی بھائی کا جھگڑا ہوگا، نہ ہمسائے کا ہمسائے سے کوئی جھگڑا ہوگا، ہر فریق دوسرے فریق کے ساتھ احسان کا سلوک کر رہا ہوگا اور اس کے حقوق محبت کے جذبہ سے ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہوگا۔اور خالصتا اللہ تعالیٰ کی محبت، اس کا پیار حاصل کرنے کے لئے اس پر عمل کر رہا ہوگا۔آج کل کے معاشرہ میں تو اس کی اور بھی بہت زیادہ ضرورت ہے۔فرمایا: اگر یہ باتیں نہیں کرو گے تو پھر متکبر کہلاؤ گے اور تکبر کو اللہ تعالیٰ نے پسند نہیں کیا۔تکبر ایک ایسی بیماری ہے جس سے تمام فسادوں کی ابتدا ہوتی ہے۔ساتویں شرط میں اس بارہ میں تفصیل سے پہلے ہی ذکر آچکا ہے اس لئے یہاں تکبر کے بارہ میں تفصیل بتانے کی ضرورت نہیں۔خلاصہ یہ ہے کہ ہمدردی خلق کرو تا کہ اللہ تعالیٰ کی نظروں میں پسندیدہ بنو اور دونوں جہانوں کی فلاح حاصل کرو۔اور یہ جو احسان ایک دوسرے پر کرو یہ محبت کے تقاضے کی وجہ سے کرو، احسان جتانے کے لئے نہیں۔اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے ﴿وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِيْنًا وَيَتِيْمًا وَّ اَسِيرًا﴾ (سورة الدهر آیت ۹ )۔اور وہ کھانے کو، اس کی چاہت کے ہوتے ہوئے ،مسکینوں اور یتیموں اور اسیروں کو کھلاتے ہیں۔اس کا ایک تو یہ مطلب ہے کہ باوجود اس کے کہ ان کو اپنی ضروریات ہوتی ہیں وہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کا پیار حاصل کرنے کے لئے ضرورتمندوں کی ضرورتوں کا 149