شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 148
شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتْمَى وَالْمَسْكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ وَابْنِ السَّبِيْلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ إِنَّ اللهَ لاَ يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُوْرًا﴾ (النساء آیت ۳)۔اس کا ترجمہ یہ ہے: اور اللہ کی عبادت کرو اور کسی چیز کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ اور والدین کے ساتھ احسان کرو اور قریبی رشتہ داروں سے بھی اور یتیموں سے بھی اور مسکین لوگوں سے بھی اور رشتہ دار ہمسایوں سے بھی اور غیر رشتہ دار ہمسایوں سے بھی اور اپنے ہم جلیسوں سے بھی اور مسافروں سے بھی اور ان سے بھی جن کے تمہارے داہنے ہاتھ مالک ہوئے۔یقیناً اللہ اس کو پسند نہیں کرتا جو متکبر (اور ) شیخی بگھارنے والا ہو۔سب کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم ہو اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نہ صرف اپنے بھائیوں ، عزیزوں، رشتہ داروں ، اپنے جاننے والوں ، ہمسایوں سے حسن سلوک کرو، ان سے ہمدردی کرو اور اگر ان کو تمہاری مدد کی ضرورت ہے تو اُن کی مدد کرو، ان کو جس حد تک فائدہ پہنچا سکتے فائدہ پہنچاؤ۔بلکہ ایسے لوگ ، ایسے ہمسائے جن کو تم نہیں بھی جانتے ،تمہاری ان سے کوئی رشتہ داری یا تعلق داری بھی نہیں ہے جن کو تم عارضی طور پر ملے ہو ان کو بھی اگر تمہاری ہمدردی اور تمہاری مدد کی ضرورت ہے ، اگر ان کو تمہارے سے کچھ فائدہ پہنچ سکتا ہے تو ان کو ضرور فائدہ پہنچاؤ۔اس سے اسلام کا ایک حسین معاشرہ قائم ہوگا۔ہمدردی مخلق اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو فائدہ پہنچانے کا وصف اور خوبی اپنے اندر پیدا کر لو گے اور اس خیال سے کر لو گے کہ یہ نیکی سے بڑھ کر احسان کے زمرے میں آتی 148