شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 78
فرمایا غصے سے اجتناب کرو۔پھر آنحضرت نے دوبارہ فرمایا ” غصے سے اجتناب کرو۔تو جب غصے سے اجتناب کرنے کو ہر وقت ذہن میں رکھیں گے تو بغض اور کینے خود بخودختم ہوتے چلے جائیں گے پھر ایک عادت کسی کو نقصان پہنچانے کی تکلیف پہنچانے کی یہ ہوتی ہے کہ کسی طرح خراب کرنے کیلئے کسی کے کئے ہوئے سودے پر سودا کرے۔اس حدیث میں اس سے بھی منع فرمایا ہے۔زیادہ قیمت دیگر صرف اس غرض سے کہ دوسرے کا سودا خراب ہو چیز لینے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ کوئی ذاتی فائدہ اس سے نہیں ہو رہا، یہاں بھی بتادوں کہ کسی کے رشتے کیلئے بھیجے ہوئے پیغام پر پیغام بھی اس زمرے میں آتا ہے اور یہ بھی منع ہے اس لئے احمدیوں کو اس سے اجتناب کرنا چاہئے۔پھر فر مایا کہ ظلم نہیں کرنا کسی کو حقیر نہیں سمجھنا کسی کو ذلیل نہیں کرنا۔ظالم کبھی خدا تعالیٰ کے قرب کو حاصل نہیں کر سکتا تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک طرف تو آپ خدا کی خوشنودی کی خاطر بیعت کر کے زمانہ کے مامور من اللہ کو مان رہے ہوں اور دوسری طرف ظلم سے لوگوں کے حقوق پر قبضہ کر رہے ہوں۔بھائیوں کو ان کے حق نہ دیں بہنوں کو اُن کی جائیدادوں میں سے حصہ نہ دیں صرف اس لئے کہ بہن کی شادی دوسرے خاندان میں ہوئی ہے ہماری جدی پشتی جائیداد دوسرے خاندانوں میں نہ چلی جائے یہ دیہاتوں میں عام رواج ہے تو بیویوں پر ظلم کرنے والے ہوں اُن کے حقوق کا خیال نہ رکھنے والے ہوں۔بیویاں خاوند کے حقوق کا خیال نہ رکھنے والی ہوں تو روز مرہ کے معاملات میں بہت سی ایسی باتیں نکل آئیں 78