شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 77
تو اور دین کے معاملے میں جہاں نیکی کو دیکھ کر رشک آنا چاہئے۔خود بھی کوشش ہونی چاہئے کہ ہم بھی آگے بڑھ کر دین کے خادم بنیں۔اس کے بجائے خدمت کرنے والوں کی ٹانگیں کھینچنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کسی طرح شکایات لگا کر اسکو بھی دین کی خدمت سے محروم کر دیا جائے۔پھر اس حدیث میں آیا ہے کہ جھگڑ نا نہیں۔چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی ہیں اور لڑائی جھگڑے شروع ہو جاتے ہیں مثلاً چھوٹی سی بات ہے کسی ڈیوٹی والے نے کسی بچے کو جلسہ کے دوران اُسکی مسلسل شرارتوں کی وجہ سے ذراسختی سے روک دیا یا تنبیہ کی کہ اب اگر تم نے ایسا کیا تو میں سختی کروں گا سزا دوں گا تو قریب بیٹھے ہوئے ماں یا باپ فوراً باز و چڑھا لیتے ہیں اور یہ تجربہ میں آئی ہیں باتیں اور اس ڈیوٹی والے بیچارے کی ایسی مٹی پلید کرتے ہیں کہ اللہ کی پناہ۔اب تمہاری اس حرکت سے جہاں تم نے عہد بیعت کو توڑا اپنے اخلاق خراب کئے وہاں اپنی نئی نسل کے دل سے بھی نظام کا احترام ختم کر دیا اور اس کے دماغ سے بھی صحیح اور غلط کی پہچان ختم کردی۔پھر فرمایا دشمنیاں مت رکھو۔اب چھوٹی چھوٹی باتوں پر دشمنیاں شروع ہو جاتی ہیں دل کینوں اور نفرتوں سے بھر جاتے ہیں۔تاک میں ہوتے ہیں کہ کبھی مجھے موقعہ ملے اور میں اپنی دشمنی کا بدلہ لوں حالانکہ حکم تو یہ ہے کہ کسی سے دشمنی نہ رکھو، بغض نہ رکھو۔حدیث شریف میں آتا ہے کہ ایک صحابی نے آنحضرت ﷺ سے عرض کی ایسی مختصر بات بتا ئیں۔نصیحت کریں جو میں بھول نہ جاؤں آپ نے 77