شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 75 of 203

شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 75

مِثْلُهَا فَمَنْ عَفَاوَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى الله - (۲) یعنی نیک آدمی وہ ہیں جو غصہ کھانے کے محل پر اپنا غصہ کھا جاتے ہیں اور بخشنے کے محل پر گناہ کو بخشتے ہیں بدی کی جزا اسقدر بدی ہے جو کی گئی ہو لیکن جو شخص گناہ کو بخش دے اور ایسے موقع پر گناہ کو بخش دے کہ اس سے کوئی اصلاح ہوتی ہو کوئی شر پیدا نہ ہوتا ہو یعنی عین عفو کے محل پر ہو، نہ غیر حل پر تو اس کا وہ بدلہ پائے گا“۔(اسلامی اصول کی فلاسفی - روحانی خزائن جلد نمبر ۱۰۔صفحه ۳۵۱) ایک بڑی مشہور حدیث ہے۔اکثر نے سنی ہوگی جس میں آنحضرت علی علوم اپنے سینہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ تقویٰ یہاں ہے یعنی حقیقی اور بے مثال تقویٰ اگر کہیں ہوسکتا ہے تو وہ صرف اور صرف آپ ﷺ کا دل صافی ہے اس دل میں سوائے تقویٰ کے کچھ اور ہے ہی نہیں۔پس اے لوگو اے مومنوں کی جماعت تمہارے لئے ہمیشہ یہ حکم ہے کہ تم نے جس اسوۂ حسنہ پر عمل کرتا ہے وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ ہے۔پس اپنے دلوں کو ٹولو۔کیا تم دل میں اُس اُسوہ حسنہ پر عمل کرتے ہوئے اپنے آپ کو تقویٰ سے بھرنے کی کوشش کر رہے ہو؟ کیا تمہارے اندر بھی اللہ کا خوف اُسکی خشیت اور اُس کے نتیجہ میں اُسکی مخلوق کی ہمدردی اور خیر خواہی ہے۔اب میں پوری حدیث بیان کرتا ہوں جو یوں ہے : حضرت ابوھریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آپس میں حسد نہ کرو۔آپس میں نہ جھگڑو۔آپس میں بغض نہ رکھو اور ایک دوسرے سے (1) آل عمران آیت ۱۳۵ (۲) الشوریٰ آیت ۴۱۔75